پاکستان بدترین خشک سالی اور قحط کا شکار ہونے جارہا ہے؟

2025ءتک پاکستان میں پانی ختم ہو جائے گا‘آبی ذخائرکے حوالے سے حکومتوں نے مجرمانہ غفلت برتی. ماہرین

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ نومبر 07:54

پاکستان بدترین خشک سالی اور قحط کا شکار ہونے جارہا ہے؟
لندن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 نومبر۔2018ء) پاکستان میں پانی کے بحران کے حوالے سے 2025ءایک علامتی سنگ میل ہے‘ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو اینڈ ی پی)، آئی ایم ایف، پاکستان کی کونسل فار ریسرچ ان واٹر اور ارسا (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی )،سب ہی متفق دکھائی دیتے ہیں کہ 2025ءتک پاکستان میں پانی ختم ہو جائے گا. پاکستانی تحقیقی ادارے نے 1990ءمیں تنبیہ کی تھی کہ پاکستان پانی کی کمی کے سنگین خطرے سے دوچار ہے‘ اس کے بعد 2005ءمیں اس ادارے نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان پانی کی قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے.

(جاری ہے)

یہ صورت حال وقت ‘مواقع اور وسائل کے مسلسل ضیاع کا نتیجہ ہے‘ قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں فی کس سالانہ 5200 کیوبک میٹرز پانی دستیاب تھا. 2018ءمیں یہ شرح 1000 کیوبک میٹرزسے کم ہے اور خدشہ ہے کہ 2025ءتک یہ مزید کم ہو کر 500 کیوبک میٹرز تک رہ جائے گی‘ سادہ لفظوں میں اس کا مطلب ہے خشک سالی اور قحط. واپڈا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تمام بڑے شہر پانی کی شدید قلت کا شکار ہو چکے ہیں‘ اسلام آباد کو 176 ملین گیلن سالانہ درکار ہے، مگر اسے 84 ملین گیلن میسر ہے، کراچی کو 1100 ملین گیلن درکار ہے اور اسے سالانہ صرف 600 ملین میسر ہے‘ پشاور کی سالانہ ضرورت 250 ملین گیلن ہے،لیکن اسے صرف 162 ملین گیلن مل پاتا ہے‘لاہور کی سالانہ ضرورت 692 ملین گیلن ہے،لیکن اسے 484 ملین گیلن ملتا ہے‘اسی طرح کوئٹہ کی ضرورت 45 ملین گیلن ہے،لیکن اسے 28 ملین گیلن حاصل ہوتے ہیں.

ایک جانب یہ صورت حال اور اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے اور دوسری جانب پاکستان ڈیمو گرافک اور ہیلتھ سروے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی کے تناسب میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے،2046 تک ملک کی آبادی دگنی ہو جائے گی اور2030 تک پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے گنجان آباد ملک بن جائے گا. اس آبادی کے لیے 12کروڑ نوکر یا ں ، 1کروڑ90لاکھ گھر اور85ہزار پرائمری اسکولزدرکار ہوں گے‘اس ضمن میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 2.40فی صدتک پہنچ گئی ہے اوراگر یہ شرح برقراررہی تو2046 میں آبادی دگنی ہوجائے گی اور2040 تک پاکستان میںمزیدبارہ کروڑ نوکر یا ں درکار ہوں گی.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت پانی کی کمی کے شکار دنیا کے تین ممالک میں سے ایک ہے پاکستان میں ایک کروڑ 90لاکھ گھروں کی ضرورت ہوگی اور2040 تک ملک میں 85 ہزارمزیدپرائمری اسکولز بنانے پڑیں گے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے مقابلے میں زچگی کے دوران ماﺅں اور بچوں کی اموات سب سے زیادہ پاکستان میں ہو رہی ہیں اورہر سال 12 ہزار مائیں زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں.

پاکستان میں ہر ایک ہزارولادتوں میں62 شیرخواربچے ایک سال کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے. سروے کے مطابق جنوبی ایشیامیں سب سے زیادہ بچوں کی پیدائش کی شرح پاکستان میں ہے اور پانچ سال سے کم عمر کے 68 فی صد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں‘ان حالات میں مستقبل کا سوچ کر دل دہلنے لگتا ہے. ماہرین کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ شرح آبادی میں اضافے سے بھی ہماری پانی کی ضرورت اور ترسیل کے نظام پر دباﺅ بڑھا ہے‘تاہم اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہیں جو موجودہ بحران کا سبب بنیں‘ کسی با ضابطہ منصوبہ بندی کے بغیر شہروں کے پھیلاﺅ کی اجازت دی گئی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے چشم پوشی کی گئی.

صنعتوں میں اضافہ ضروری تھا، مگر ماحولیاتی آلودگی اور نکاسی آب کے ضابطے مقرر نہیںکیے گئے، لہذا ہمارے دریا آلودہ ہو گئے اور زہریلے مواد زیر زمین پانی میں شامل ہو گئے‘ سیمنٹ اور چمڑے کی فیکٹریز نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا. نہروں کی دیکھ بھال نہیں کی گئی اور نہری سلسلے میں آب پاشی کے دوران تقریبا 50 فی صدپانی ضائع ہوتا رہا.