وزیراعظم عمران خان کا افغان مہاجرین کو شہریت دینے کا اعلان

افغان مہاجرین کی پاکستان آمد میں اضافہ ہونے لگا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ نومبر 11:27

وزیراعظم عمران خان کا افغان مہاجرین کو شہریت دینے کا اعلان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 نومبر 2018ء) : وزیراعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کچھ اہم اعلانات کیے جن میں سے ایک افغان اور بنگالی مہاجرین کو پاکستان کی شہریت فراہم کرنا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شہریت دینے کے اعلان کے بعد پاک افغان بارڈر طور خم کے راستے افغان خاندانوں کی پاکستان آمد میں اضافہ ہوا۔

افغان خاندان معمولی گھریلو سامان کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں اور اپنے ہمراہ ضروری قانونی دستاویزات بھی لارہے ہیں۔ افغان مہاجرین کو شہریت دینے کےوزیراعظم عمران خان کے اعلان کے بعد افغان شہریوں کی پاکستان آمد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ طور خم میں مقامی ٹرانسپورٹرز اور ٹیکسی مالکان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ 16 ستمبر کو وزیراعظم عمران خان نےگورنرہاؤس کراچی میں ڈیمز فنڈریزنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغانیوں اور بنگالیوں کوشناختی کارڈ بنا کردینے کا اعلان کیا۔

تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان ، بنگلادیش سے لوگ یہاں رہتے ہیں ان کوپاسپورٹ یا شناختی کارڈ نہیں ملتے۔ان کونوکریاں نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں پچھلے 40 سالوں سے مقیم بنگلادیشی اور افغانی لوگوں کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ دیں گے۔جس کے بعد آج قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ملک میں بسنے والے مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کردیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں بسنے والے مہاجرین کو حقوق دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کو زبردستی واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔بنگالیوں کی پاکستان میں تیسری نسل ہے لیکن ان کو شہریت نہیں ملی۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مہاجرین سے متعلق قانون سازی کے لیے اپوزیشن سے تجاویز بھی طلب کر لیں۔ وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان کی جہاں مخالفت کی گئی وہیں عمران خان کے اس اعلان پر بنگالی اور افغان مہاجرین میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان پر مہاجرین بھی خوشی سے جھُوم اُٹھے اور ''عمران خان زندہ باد'' کے نعرے لگا دئے یہی نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان پر بنگالی مہاجرین نے مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔