العزیزیہ ریفرنس ،ْ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے سوالات کے جواب جمع کرادیے

بدھ نومبر 14:19

العزیزیہ ریفرنس ،ْ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے سوالات ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں بطور ملزم اپنا بیان قلمبند کرایا اور احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے تحریری جواب جمع کرادئیے۔ بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو روسٹرم پر بلایا گیا جہاں آنے کے بعد انہوں نے 342 کا بیان قلم بند کرایا۔

جج ارشد ملک نے پوچھا کہ کیا آپ نے استغاثہ کے شواہد کو دیکھ، سن اور سمجھ لیا ہے جس پر نواز شریف نے کہا کہ جی میں نے شواہد دیکھ لے ہیں۔فاضل جج ارشد ملک نے پہلا سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ آپ عوامی عہدیدار رہے ہیں جس کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ، وزیر خزانہ اور اپوزیشن لیڈر رہ چکا ہوں اور تین بار ملک کا وزیراعظم رہا ہوں۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ تین بار ملک کا وزیر اعظم رہا، پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو مارشل لاء لگایا، مارشل لاء کے دوران کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھتا تھا، 12 اکتوبر 1999 سے مئی 2013 تک کسی عوامی عہدے پر نہیں رہا نواز شریف نے کہا کہ یہ تفتیشی کی رائے تھی کہ میں شریف خاندان کا سب سے با اثرشخص تھا، میرے والد میاں شریف آخری سانس تک خاندان کے سب سے با اثر شخص تھے۔

انہوں نے کہا ٹیکس ریٹرنز، ویلتھ اسٹیمٹمنٹس اور ویلتھ ٹیکس ریٹرن میں نے ہی جمع کروائے تھے، 2001 سے 2008 تک میں جلا وطن تھا جب کہ حسین نواز کے جمع کروائے گئے ٹیکس سے متعلق جواب دینے کامجاز نہیں تاہم میں نے اپنے اِنکم ٹیکس ریٹرن میں تمام اثاثے اور ذرائع آمدن ظاہر کیے۔اس موقع پر نواز شریف کے وکلاء نے سوالنامے میں شامل کچھ سوالات پر اعتراض اٹھائے جبکہ سابق وزیراعظم نے کہا کہ کچھ سوالات افواہوں پر مبنی ہیں اور کچھ سوالات میں ابہام بھی پایا جاتا ہے۔

نواز شریف کے معاون وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ میاں صاحب نشست پر بیٹھ جائیں ہم جواب تحریر کرا دیتے ہیں جس پر جج ارشد ملک نے کہا کہ اگر جواب یو ایس بی میں ہیں تو جمع کرادیں۔معاون وکیل نے کہا کہ یو ایس بی میں عدالتی سوالات کے جواب نہیں ہیں، ہارڈ کاپی ہے جس پر جج نے کہا کہ اپنے جواب کی کاپی مجھے دیں میں پڑھ لیتا ہوں جس کے بعد انہوں نے سابق وزیراعظم سے جواب کی کاپی لے لی۔

نواز شریف نے 45 سوالات کے جواب ریکارڈ کروائے، جج ارشد ملک نے کہا کہ بیان پر نواز شریف کے دستخط لینے ہیں، سپریم کورٹ کو بھی بیان بھجوائیں گے کہ یہاں تک بیان ریکارڈ ہو چکا ہے، جو جواب تسلی بخش نہ ہوئے وہ دوبارہ لکھوانے پڑیں گے۔اس موقع پر نواز شریف نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ 5 سوالات کے جوابات خواجہ حارث سے مشاورت کے بعد دوں گا لہذا وقت دیا جائے، کچھ سوالات پیچیدہ ہیں، ریکارڈ دیکھنا پڑے گا۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف ٹرائل مکمل کرنے کے لیے فاضل جج ارشد ملک کو سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن بھی 17 نومبر کو ختم ہورہی ہے۔ احتساب عدالت کی جانب سے ٹرائل کی مدت میں ساتویں بار توسیع کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کا بھی امکان ہے۔