دانیال عزیز کی 5 سال تک نا اہلی کا فیصلہ برقرار

توہین عدالت کیس کے فیصلے میں مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز نے اپنی انفرادی کورٹ اپیل واپس لے لی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ نومبر 14:29

دانیال عزیز کی 5 سال تک نا اہلی کا فیصلہ برقرار
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔14نومبر2018ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کے فیصلے کی سماعت ہوئی۔دانیال عزیز نے نا اہلی کے خلاف اپنی انفرادی کورٹ اپیل واپس لے لی۔عدالت نے اپیل واپس واپس لینے پر معاملہ نمٹا دیا۔دانیال عزیز کے وکیل نے سماعت کے شروع میں روسٹرم پر آ کر کہا کہ اپیل واپس لینا چاہتے ہیں۔

انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے کرنا تھی۔جس کے بعد دانیال عزیز کی پانچ سال تک نا اہلی برقرار رہی ہے۔دانیال عزیز کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بعض اوقات خاموشی سب سے اونچی آواز ہوتی ہے۔واضح رہے عدالت نے 28جون کو سابق وزیر دانیال عزیز کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا تھا۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ ن کے رہنماء دانیال عزیز نے اگست میں توہین عدالت کی سزا کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ میں توہین عدالت فیصلے کیخلاف دائر نظر ثانی درخواست میں مئوقف اختیار کیا گیا کہ دانیال عزیز نے اپنی تقاریر میں کسی جج یا ادارے کا نام نہیں لیا۔ دانیال عزیز کوشواہد کے برعکس توہین عدالت کی سزا سنائی گئی۔ دانیال عزیز نے درخواست اپنے وکیل علی رضا کے ذریعے دائر کی ۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ توہین عدالت کی سزا کوکالعدم قرار دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے دانیال عزیز کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا،واضح رہے مسلم لیگ (ن) کے دانیال عزیز کے ٹی وی ٹاک شو کے دوران عدلیہ مخالف گفتگو کرنے پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 2 فروری 2018 کو از خود نوٹس لیا۔13 مارچ کو دانیال عزیز پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی گئی جس کے بعد 28 جون کو فیصلہ سناتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا۔

سی طرح اسے قبل پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کے مرتکب قرار پائے۔سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے 26 اپریل 2012 کو یوسف رضا گیلانی کو آئین کے آرٹیکل 204 (2) کے تحت توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا اور انہیں عدالت کی برخاستگی تک قید کی سزا سنائی۔عدالت سے سزا پانے کے بعد وہ ناصرف وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ 5 سال کیلئے بھی نااہل ہوئے جس کی وجہ سے وہ 2013 کے انتخابات میں بھی حصہ نہ لے سکے۔

سابق سینیٹر نہال ہاشمی کی ایک تقریر پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا جس میں انہیں پاناما لیکس کیس میں تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو دھمکیاں دیتے سنا جاسکتا تھا۔عدالتِ عظمیٰ نے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے جرم کا مرتکب پاتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی جس کے بعد وہ 5 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نااہل بھی قرار پائے۔