سینیٹ انتخابات سے قبل ہی تحریک انصاف کو بڑی کامیابی مل گئی

دو آزار ارکان پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی امیدواروں کو ووٹ دینے کا اعلان کر دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ نومبر 16:55

سینیٹ انتخابات سے قبل ہی تحریک انصاف کو بڑی کامیابی مل گئی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 نومبر 2018ء) سینیٹ انتخابات سے قبل ہی تحریک انصاف کو بڑی کامیابی مل گئی۔ دو آزارارکان پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی امیدواروں کو ووٹ دینے کا اعلان کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق احمد علی اولکھ اور قاسم عباس کی گورنر پنجاب چوہدری سرور اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملات ہوئی ہے۔جس کے انہوں نے پی ٹی آئی کو حمایت کا یقین دلا دیا ہے،اور اپنا ووٹ ہی ٹی آئی امیدارواں کو دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

پنجاب میں سینٹ کی دو نشستوں پر کل ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدواروں کی کامیابی کا قوی امکان ہےجبکہ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے سینیٹ انتخابات میں کامیابی اورعمران خان کی جماعت کو ہرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے اور پیسہ تک لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

(جاری ہے)

سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے لیے جہاں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کوششوں میں مصروف ہے وہیں مسلم لیگ ن بھی سینیٹ انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اراکین اسمبلی سے رابطے کر رہی ہے۔

سینیٹ کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ق کے کردار کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔سینیٹ انتخاب میں 4 آزاد ارکان کے ووٹ بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلزپارٹی کے اتحاد کے باوجود سینیٹ انتخاب میں حکومتی اتحاد کو 21 نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ خفیہ رائے شماری ہونے کے باوجود حکومتی اتحاد کی پوزیشن مضبوط ہے۔ 4 آزاد ارکان کا ووٹ بھی حکومت اتحاد ہی کو ملنے کا امکان ہے۔

پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی180، مسلم لیگ (ق) کی10اور پاکستان راہ حق پارٹی کی ایک نشست ہے ، اس طرح حکومتی اتحاد کے پاس 191نشستیں ہیں جبکہ آزاد ارکان کی تعداد 4 ہے۔ ان آزاد ارکان میں سے جگنو محسن اور احمد علی اولکھ پہلے ہی حکومتی اتحاد کے ساتھ ہیں جبکہ حالیہ ضمنی انتخاب میں کامیاب ہونے والے دو آزاد ارکان بلال اصغر وڑائچ اور قاسم عباس کا جھکائو بھی پاکستان تحریک انصاف کی طرف ہے ، اس طرح حکومتی اتحاد کی نشستیں 195ہیں۔

اگر مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ نکل جائیں تو حکومتی اتحاد کے پاس185ووٹ رہ جائیں گے جبکہ سادہ اکثریت کے لئے 186ووٹ درکا رہیں۔ دوسری جانبمسلم لیگ ن کی 167اور پیپلزپارٹی کی 7 نشستیں ہیں، اس طرح اپوزیشن نشستوں کی تعداد 174 ہے ،جبکہ چودھری نثار نے تاحال پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا، اس لئے وہ سینٹ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے ۔ اس کے علاوہ پی پی168کی نشست پر ابھی انتخاب ہونا باقی ہے ۔

ذرائع کے مطابق خفیہ رائے شماری کے باوجود حکومتی اتحاد کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا کیونکہ سینیٹ کی دونوں نشستوں پر حکومتی پوزیشن مضبوط ہے ۔ واضح رہے کہ سینیٹ کی دو نشستوں پر کامیابی کے لیے پنجاب حکومت متحرک ہو گئی ہے۔سینیٹ انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے وزرا اور پارٹی رہنماؤں کو ارکان اسمبلی سے رابطے کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے سینیٹ کے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے لیے پیسہ لگانے اور برادری کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاہم ذرائع کے مطابق سینیٹ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے مقابلے میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جیت کا قوی امکان ہے۔