سپریم کورٹ کا ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ کابینہ میں بھیجنے کا حکم ،ْ سیکرٹری آبپاشی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

بدھ نومبر 18:58

سپریم کورٹ کا ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ کابینہ میں بھیجنے کا حکم ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2018ء) سپریم کورٹ نے ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر سے متعلق معاملہ صوبائی کابینہ کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری آبپاشی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سیکرٹری آبپاشی کی سرزنش کی اور ان سے استفسار کیا کہ آپ نے عدالتی حکم کی تعمیل نہیں کی، اور ڈیم کی تعمیر سے متعلق خود ہی فیصلہ کرلیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ صوبائی کابینہ کو معاملہ کیوں نہیں بھیجا گیا اور خود سے یہ فیصلہ کیسے کرلیا گیا۔عدالتِ عظمیٰ نے عدالتی حکم نہ ماننے پر سیکرٹری آبپاشی کو توہینِ عدالت کا نوٹس بھی جاری کردیا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر پنجاب حکومت خود ہی ڈیم کی تعمیر کرنا چاہتی ہے تو اس کے بارے میں عدالتِ عظمیٰ کو آگاہ کیا جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈیم بنانے سے متعلق بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کی پارٹنرشپ کی پیشکش کو کیوں ٹھکرا دیا جس پر سیکرٹری آبپاشی نے جواب دیا کہ ہم نے انکار نہیں کیا بلکہ ایک کمیٹی بنائی تھی جس نے پیشکش کو مسترد کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم آنے کے باوجود کمیٹی تشکیل دینے والے آپ کون ہوتے ہیں جس پر سیکرٹری آبپاشی نے جواب دیا کہ عدالت کے حکم پر کابینہ سے منظوری لینے کا معاملہ میرے علم میں نہیں ہے، اس وقت شاید دوسرے سیکریٹری عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عدالت نے پنجاب حکومت کو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں ڈیم کی تعمیر کا حتمی فیصلہ کرنے کیلئے 3 ہفتوں کی مہلت دے دی۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ کابینہ فیصلے سے آگاہ کرے کہ ڈھڈوچہ ڈیم بحریہ ٹاؤن کے ساتھ مل کر بنانا ہے یا خود بنانا ہے۔عدالت نے بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کی پیشکش سے متعلق تجویز کا جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت 3 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔