انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی ٹی او آرز طے نہ کرسکی

حکومت کوانتخابات میں ہونے والی دھاندلی کا علم ہے، ہمیں معلوم تھا کہ حکومت بھاگنے کی کوشش کرے گی ،ْرانا ثناء اللہ فواد چوہدری نے اعتراض اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت کمیٹی الیکشن کی انکوائری نہیں کرسکتی ،ْوزیر تعلیم شفقت محمود

بدھ نومبر 18:58

انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی پارلیمانی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2018ء) انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی ٹی او آرز طے نہ کرسکی۔بدھ کو 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقاتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اختلافات کے باعث ٹی اوآرزطے نہ ہوسکے۔ اجلاس میں فواد چوہدری نے کمیٹی کے آئینی دائرہ اختیار پراعتراض اٹھا دیا، جس پرمسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ نے کہا کہ بادی النظرمیں لگتا ہے کہ حکومت نے دباؤ میں پارلیمانی کمیٹی کا مطالبہ تسلیم کیا، حکومت کوانتخابات میں ہونے والی دھاندلی کا علم ہے، ہمیں معلوم تھا کہ حکومت بھاگنے کی کوشش کرے گی، جس پرمیر حاصل بزنجو نے کہا کہ ہم حکومت کو بھاگنے نہیں دیں گے۔

(جاری ہے)

پیپلزپارٹی کے نوید قمرنے کہا کہ ہم حکومت کے اعتراضات سے متفق نہیں ہیں جبکہ اگلی میٹنگ میں اپنے ٹی او آرزمیں پیش کریں گے۔دوسری جانب وفاقی وزیربرائے تعلیم شفقت محمود نے ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری نے اعتراض اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت کمیٹی الیکشن کی انکوائری نہیں کرسکتی، بطور چیئرمین فیصلہ کیا کہ پرویز خٹک کو اعتراضات پر مشتمل ریفرنس بھیجوں گا، آرٹیکل 225 کے ہوتے ہوئے کیا پارلیمانی کمیٹی الیکشن کی تحقیقات کرسکتی ہے یا نہیں، آئندہ اجلاس میں تمام ارکان اپنے اپنے ٹی او آرز لکھ کردیں گے جب کہ 22 تاریخ کو 3 بجے ذیلی کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہوگا۔