پورے سندھ میں منشیات کے اڈے پولیس سرپرستی میں چل رہے ہیں، منشیات کی وجہ سے نوجوان نسل تباہ ہوچکی ہے، حلیم عادل شیخ

بدھ نومبر 21:53

پورے سندھ میں منشیات کے اڈے پولیس سرپرستی میں چل رہے ہیں، منشیات کی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2018ء) پاکستان ن تحریک انصاف سندھ کے جنرل سیکریٹری و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا پورے سندھ میں منشیات کے اڈے پولیس سرپرستی میں چل رہے ہیں منشیات کی وجہ سے نوجوان نسل تباہ ہوچکی ہے، کراچی میں فوڈ اٹھارٹی کے ایم سے والے سب ملے ہوئے ہیں، ایک ماں آج اسپتال میں سسک رہی ہے اس کو نہیں معلوم کہ اس کے گلشن کے دوپھول دنیا میں نہیں رہے حکمرانوں کے لئے شرم کی بات ہے، دو بچوں کے فوت ہونے کے بعد اب رشوت کے ریٹ ڈبل ہوگئے ہیں ۔

انورمجید کے لئے توایک دن میں قانون بنایاجاتا ہے گھنٹوں میں سبسڈی دی جاتی ہے چارارب بیمارصنعتوں کو دیئے گئے پتہ چلا کہ وہ انورمجید کی تھی یہاں کراچی میں کیا نہیں ہوتا 2014کا گوشت ملا پتا نہیں کراچی کا تھا یا لاھوروالا گدھوں کا گوشت کراچی میں جگہ جگہ سلاٹر ہائوس کھے ہوئے ہیں، جہاں دس پندرہ ھزارمیں مردہ بھینسیں فروخت کی جارہی ہوتی ہیں کٹے اورمرے جانوروں کا گوشت سرعام مل رہاہوتاہے یہاں تک کہ دودہ اورپانی بھی خالص نہیں مل رہی حکمران خود برانڈڈ پانی پیتے ہیں اور عوام کو گٹروں کا پانی پینے کے لئے دیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

سندھ میں سبزیاں بھی گٹرکے پانی سے اگائی جاتی ہیں۔ مرغی کی افزائش یک لئے بنائی جانے والی فیڈ بھی کیمیکل سے بنائی جاتی ہے۔ حکومت کو سب پتہ ہے لیکن قانون پر کسی نے عمل نہیں کرنا ہے خالی نوٹس سے کام نہیں چلتے گا عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، کھروبوں کا بجیٹ سندھ میں آیا لیکن سندھ میں ایک فرانزک لیب نہیں بنائی گئی ٹیسٹ کرانے کے لئے سیمپل لاہور بھیجے جاتے ہیں۔ اربوں روپے بجٹ میں خرچ کرنے کے باوجود چھوٹی سی لیب نہیں بن سکیس سندھ حکومت حق حکمرانی کا اخلاقی جواز کھوچکی ہے، قانون بنائے جاتے ہیں عمل نہیں ہوتا۔#