چیف جسٹس نے ان سے منسوب غلط ریمارکس شا ئع کر نے پر روزنامہ جنگ اور دی نیو ز راولپنڈی کو شو کاز نو ٹس جا ری کر دئیے

بدھ نومبر 23:24

چیف جسٹس نے ان سے منسوب غلط ریمارکس شا ئع کر نے پر روزنامہ جنگ اور دی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان سے منسوب غلط ریمارکس شا ئع کر نے پر روزنامہ جنگ اور دی نیو ز راولپنڈی کو شو کاز نو ٹس جا ری کر دئیے ہیں۔ بدھ کوچیف جسٹس میا ں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جنگ گروپ کی جانب سے کوئی رپورٹر آیا ہے تو دی نیو ز کے سینیر رپورٹر سہیل خان نے کھڑے ہوکربتایا کہ وہ دی نیوز کے رپورٹر ہیں ، جس پر چیف جسٹس نے ان سے پو چھا کہ حکومت کے حوالے سے جوخبر مجھ سے منسوب کی گئی ہے کیا یہ اپ کی خبر تھی توسہیل خان نے عدالت کو بتایا کہ دی نیو ز میں ان کی خبر شا ئع نہیں کی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جس نے بھی یہ خبر شا ئع کی اس نے غلطی کی ہے یہ جھو ٹی خبرہے جومجھ سے منسوب کرکے شا ئع کر دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران جسٹس اعجا زالاحسن کاکہناتھا کہ چیف جسٹس سے جھوٹی خبر منسوب کر کے شا ئع کی گئی ہے، اس موقع پر چیف جسٹس نے رپورٹر سہیل خان سے کہا کہ وہ جا کر ادارے کے کسی بڑے کوعدالت میں پیش کر یں تاہم جب وقفے کے بعد جنگ گروپ کی جانب سے کوئی عدالت میں پیش نہیں ہوا، تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے دونوں اخبارات منگوا لئے ہیں، جنگ اور دی نیو ز دونوں اخبارات میں غلط خبر چلائی گئی ہے، جس کی شہ سرخی یہ ہے کہ حکومت میں اہلیت ہے نہ صلاحیت ، یہ سراسر جھوٹ پر مبنی خبر ہے،ہم نے تو بنی گالا کیس میںسی ڈی اے کے حوالے سے بات کی تھی، عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ موجود ہے ہم وہ چلا لیں گے،اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ اس خبر کے ٹکر بھی چلائے گئے ہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن کاکہناتھا کہ اس غلط خبر پر پروگرام بھی کیے گئے، بعد ازاں عدالت نے جنگ اور دی نیوز کے پرنٹر پبلشر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں اس حوالے سے جواب طلب کرلیا ۔