صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی سے صوبائی وزیر میراسد اللہ بلوچ کی ملاقات

بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے صدر مملکت کو بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگانے،پنجگور آواران روڈ منصوبے کی تاخیر، این ایف سی ایوارڈ سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا

بدھ نومبر 23:35

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی سے صوبائی وزیر میراسد اللہ بلوچ کی ملاقات
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2018ء) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی سے صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے بدھ کو ملاقات کی ، بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے صدر مملکت کو بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگانے،پنجگور آواران روڈ منصوبے کی تاخیر، این ایف سی ایوارڈ سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے بلوچستان اسمبلی میں بی این پی ( عوامی ) کے پارلیمانی لیڈر اسد بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے صدر مملکت سے ملاقات کے موقع پرصوبے کے عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ سی پیک کا اصل مرکز گوادر ہے مگر سابق دور حکومت میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے گوادر کی بجائے پنجاب سے شروع کئے گئے جس سے گواد ر سمیت پورے صوبے کے عوام میں تحفظات پائے جاتے ہیں انہوں نے وزیر خزانہ اسد عمر کے این ایف سی ایوارڈ بارے دیئے گئے بیان پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے صدر مملکت کو بتایا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تمام نکات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء میں تاخیر سے بلوچستان مسائل کا شکار ہے اس لئے ضروری ہے کہ نیا این ایف سی ایوارڈ جلد از جلد جاری کیا جائے اور اس میں بلوچستان کے موقف کو خاطرخواہ پذیرائی دی جائے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے پنجگور آواران روڈ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر سے متعلق بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اس اہم منصوبے سے پنجگور ،آواران اور لسبیلہ کے چودہ لاکھ عوام مستفید ہوں گے جبکہ تینوں اضلاع میں معاشی انقلاب آجائے گا اور ایران بارڈر سے کراچی تک فاصلہ سمت کر چند گھنٹے ہوجائے گا اس لئے اس منصوبے کی جلدا زجلد تکمیل کو یقینی بنایا جائے صوبائی وزیر نے وفاقی پی ایس ڈی پی میںبلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگانے کے اقدام پر بھی اپنے تحفظات کااظہار کیا اور بتایا کہ بلوچستان پہلے سے پسماندگی کا شکار ہے وفاقی پی ایس ڈی پی میں صوبے کے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگانے کے اقدام سے صوبے کے عوا میں تشویش پائی جاتی ہے اس لئے وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔