ملکی مالی خلا کو پر کرنے کے انتظامات کر لیے گئے ہیں، اب ہمارے پاس ادائیگیوں کے توازن کا کوئی بحران نہیں ہے ،آئی ایم ایف کا یہ پروگرام آخری پروگرام ہو گا، پی ٹی آئی حکومت کی مثبت پالیسیوں اور اقدامات کی بدولت ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’نیوز وائس‘‘ میں گفتگو

بدھ نومبر 23:56

ملکی مالی خلا کو پر کرنے کے انتظامات کر لیے گئے ہیں، اب ہمارے پاس ادائیگیوں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2018ء) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملکی مالی خلا کو پر کرنے کے انتظامات کر لیے گئے ہیں اور فوری مالی بحران کا خاتمہ ہو چکا ہے، ملکی معیشت کو بالکل درست سمت پر لے جانے کے لیے ابھی تو پالیسیاں بنائی ہیں اور اقدامات ہونے شروع ہوئے ہیں جن پر تواتر سے چلتے رہنے سے دو تین سال بعد واضح ہو جائے گا کہ آئی ایم ایف کا یہ پروگرام آخری پروگرام ہو گا۔

اب ہمارے پاس ادائیگیوں کے توازن کا کوئی بحران نہیں ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’نیوز وائس‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے 19واں پروگرام لینے جا رہا ہے جو انشااللہ ہمارا آخری پروگرام ہوگا، پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت ایسی مثبت پالیسیاں اور اقدامات کر رہی ہے جن کی بدولت ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا کیونکہ ہم چاہتے بھی یہی ہیں کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پا س نہ جانا پڑے۔

(جاری ہے)

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان میں موجود ہے جس کے ساتھ ہمارے مذاکرات جاری ہیں اور آئندہ کچھ روز میں صورت حال واضح ہو جائے گی، آئی ایم ایف کے پاس جانے کے فیصلے میں تاخیر کا تاثر غلط ہے، میں نے انتخابات سے قبل اور وزیر خزانہ کا حلف لینے کے فوری بعد بھی یہی کہا کہ اس وقت جہاں ہماری معیشت کھڑی ہے اس کے لیے آئی ایم ایف کے پاس بیل آئوٹ پیکج کے لیے جانا ناگزیر ہے لیکن ہم دونوں آپشنز پر غور کریں گے، میں نے حلف اٹھانے کے 10 دن بعد فوری طور پر آئی ایم ایف کو فون کیا اور ان سے بھی وہی بات کہی جو میں میڈیا کے سامنے کرتا رہا کہ ہم دونوں آپشنز پر غور کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ اپنی ٹیم یہاں ضرور بھیجیں تاکہ اگر ہم آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کریں تو وقت ضائع نہ ہو اور سارا کام فوری ہو جائے جس کے بعد 27 اکتوبر کو آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی، اس طرح میرے بطور وزیر خزانہ حلف لینے کے پانچ ہفتے بعد آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچی ہوئی تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نجکاری کے حوالے سے ہماری پالیسی بالکل واضح ہے، سٹیل مل کو اس حالت میں کوئی بھی نہیں لے گا، لہٰذا سٹیل مل سمیت کئی اداروں کی ری سٹرکچرنگ کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اب ہمارے پاس ادائیگیوں کے توازن کا کوئی بحران نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے بھی اہم و موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے اب انہیں ٹیکس دینا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 10 سے 15 ہزار تک کے موبائل فون خریدنے والے پر تو کوئی ٹیکس نہیں لگایا لیکن زیادہ مہنگے موبائل خریدنے والوں پر بھی ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے، موبائل فون کے آئی ایم ای آئی کوڈ کی مدد سے سمگل ہوئے فون کا پتہ لگایا جا سکتا ہے اور اب پاکستان میں سمگل شدہ فونز کام نہیں کریں گے، مہنگی گاڑیاں خریدنے والوں پر بھی ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت نے عام آدمی پر کسی قسم کا کوئی بوجھ نہیں بڑھایا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہم پرعزم ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی ولولہ انگیز اور متحرک قیادت کے تحت ملک کو ترقی و وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہوں گے۔