حجاب اتارو یا استعفیٰ دو

بھارت میں مسلمان خواتین کو حجاب اتارنے ہر مجبور کیا جانے لگا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات نومبر 00:02

حجاب اتارو یا استعفیٰ دو
لکھنو(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-14 نومبر 2018ء) :بھارت میں مسلمان خواتین کو حجاب اتارنے ہر مجبور کیا جانے لگا۔تنگ نظری کا شکار ہونے والی خاتون ٹیچر نے استعفیٰ دے دیا۔تفصیلات کے مطابق ویسے تو بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے اور اپنا نام نہاد روشن خیال چہرہ سامنے لانے کے لیے سر توڑ کوششیں بھی کرتا رہتا ہے اور لبرل ازم کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔

تاہم وقت فوقتا ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں کہ بھارت کا یہ لبرل چہرہ خود ہی بے نقاب ہو جاتا ہے۔بالخصوص جب سے بھارت میں مودی سرکار آئی ہے تب سے بھارت مسلمانوں کا تشخص مٹانے کے در پے ہے۔کبھی مسلمانوں کی تاریخ مسخ کرنے کے لیے تاج محل کو گرانے کی بات ہوتی ہے تو بھی قطب مینار کو غلامی کی علامت کہا جاتا ہے اور تو اور مسلم تاریخ سے جڑے شہروں کے نام بھی تبدیل کئیے جارہے ہیں جن کیں لکھنو ، الہٰ آباد، علی گڑھ اور احمد آباد شامل ہیں۔

(جاری ہے)

تاہم تازہ ترین خبر کے اب بھارت میں مسلم خواتین کو حجاب اتارنے پر مجبور کیا جانے لگا ہے۔ایسے ہی دباو کا شکار بننے والی خاتون فاطمہ حسن نے حجاب اتارنے کی بجائے اسکول سے استعفیٰ دے دیا۔فاطمہ حسن ایک عرصے سے لکھنو کے نجی اسکول میں پڑھا رہی تھیں۔گزشتہ ماہ اسکول پرنسپل نے فاطمہ حسن سے کہا کہ آپ کو حجاب کے بغیر اسکول میں بچوں کو پڑھانا ہوگا کیونکہ آپ کے حجاب کی وجہ سے اسکول کو خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تاہم 3 نومبر کو فاطمہ نے اسکول سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ اسے حجاب اتارنا منظور نہیں ہے۔