حقیقی زندگی کے ''ویر زارا'' جو اپنی محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے

ہندو خاتون اور پاکستانی شہری گذشتہ 24 سال سے دبئی میں مقیم خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات نومبر 12:16

حقیقی زندگی کے ''ویر زارا'' جو اپنی محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے
دبئی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15 نومبر 2018ء) : ''ویر زارا'' بالی وڈ کی ایک معروف فلم ہے جو دو ایسے لوگوں کے گرد گھومتی ہے جو سرحد پار ہونے، مذہبی عقائد میں فرق ہونے اور ایسے کئی تنازعات کے باوجود ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ فلم میں بالی وڈ کے کنگ خان شاہ رخ خان اور پریتی زنٹا نے مرکزی کردار ادا کیے۔ اس فلم کو تین روز قبل 12 نومبر کو 14 سال مکمل ہوئے لیکن آج بھی سب کے ذہن میں ایک سوال ہے کہ کیا فلم ''ویر زارا'' محض ایک اسکرپٹ پر مشتمل تخلیقی کہانی تھی یا پھر حقیقی زندگی میں بھی کوئی ''ویر زارا'' ہیں جن کی زندگی سے متاثر ہو کر یہ فلم بنائی گئی۔

فلم کے 14 سال بعد حقیقی زندگی کے ''ویر زارا'' کی کہانی سامنے آئی جو دبئی میں گذشتہ 24 سال سے ایک خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

بھارت کے شہر گووا کی رہائشی ٹیریسا اسکویرا نے پاکستانی شہر کراچی کے رہائشی نعیم جمیل سے شادی کی اور آج ان کی شادی کو 32 سال ہو چکے ہیں۔ دونوں کے چار بچے ہیں اور دونوں گذشتہ 24 سال سے دبئی میں ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ٹیریسا نے بتایا کہ نعیم نے کارمل اسکول کویت میں میرے ساتھ تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کی، چھٹی جماعت کے بعد طلبا اور طالبات کو علیحدہ کر دیا گیا۔ کئی سال بعد ہمارے دوبارہ ملاقات ہوئی اور ہم ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے اور شادی کا فیصلہ کیا۔ لیکن ہمارے والدین اس شادی کے سخت خلاف تھے۔ کویت میں یہ قانون ہے کہ شادی کے وقت والدین کا ہونا لازمی ہے لہٰذا ہم نے شادی کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔

بعد ازاں 1986ء میں ہم سائپرس گئے اور وہاں کورٹ میرج کر لی۔دونوں کے اہل خانہ نے اُس وقت تک اس شادی کو تسلیم نہیں کیا جب تک شادی کے 10 ماہ بعد ان کا پہلا بیٹا ذاہین پیدا نہیں ہوا۔ ٹیریسا نے بتایاکہ ہم اپنے پہلے دو بچوں کی پیدائش تک کویت میں ہی مقیم رہے لیکن 1990ء میں جب کویت اور عراق کے مابین جنگ چھڑنے کے بعد ہمیں کویت چھوڑنا پڑا۔ کویت سے واپسی پر دونوں ایک سال کے لیے پاکستان میں رہے جس کے بعد 1992ء میں کینیڈا منتقل ہو گئے۔

دو سال کینیڈا میں قیام کے بعد ٹیریسا اور نعیم 1994ء میں دبئی شفٹ ہوئے جس کے بعد تب سے اب تک دبئی میں ہی مقیم ہیں۔ ان کی 28 سالہ بیٹی سارہ کا کہنا تھا کہ دو مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے والدین کی وجہ سے مجھے یا میرے بھائیوں کو کبھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔سارہ نے کہا کہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ کئی معاملات میں مماثلت رکھنے کے باوجود دونوں ممالک کے مابین اتنی نفرت کیوں ہے۔ ٹیریسا اور نعیم نے اپنی محبت کو کامیاب کیا اور اب ایک خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔ دو مختلف ممالک اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود ٹیریسا اور نعیم نے یہ ثابت کیا کہ وہ حقیقی زندگی کے ''ویر زارا'' ہیں جنہوں نے تمام تر مشکلات اور مخالفت کے باوجود ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔