بھارتی تحقیقاتی ادارے نے خاتون کشمیری رہنمائوںکے خلاف 4ماہ 10دن کی نظربندی کے بعد فرد جرم عائدکردی

آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین ٹیوٹر، فیس بک، یو ٹیوب کے ذریعے بھارت کے خلاف نفرت آمیز پیغامات اور تقاریر کے علاوہ کشمیری عوام کو بھارت سے علیحدگی پر اکساتی تھیں، این آئی اے

جمعرات نومبر 12:20

نئی دلی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) کشمیری حریت رہنمائوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کیلئے بدنام بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کے خلاف 4 ماہ 10روز بعد فرد جرم عائد کردی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق این آئی اے نے نئی دلی کی ایک عدالت میں تینوں خواتین رہنمائوں کے خلاف فرد جرم پیش کی جنہیں رواں سال اگست میںگرفتار کیاگیا تھا ۔

این آئی اے نے ایک بیان میں کہاہے کہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سماجی رابطے کی ویب سائیٹوں بشمول ٹیوٹر، فیس بک، یو ٹیوب اور دیگر کے ذریعے بھارت کے خلاف نفرت آمیز پیغامات اور تقاریر کے علاوہ کشمیری عوام کو بھارت سے علیحدگی پر اکساتی تھیں۔

(جاری ہے)

این آئی اے کی فرد جرم مضحکہ خیز ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اکثریت جموں وکشمیر کو کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں سمجھتے اور وہ متفقہ طورپر اپنے حق خودارایت مطالبہ کررہے ہیں جس کی ضمانت اقوام متحدہ نے اپنی منظور کی گئی متعدد قراردادوں میں کر رکھا ہے ۔

این آئی اے نے اپنی فرد جرم میں مذید کہاہے کہ تینوں خواتین رہنماء سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کے علاوہ پاکستانی چینلوں سمیت ٹی وی چینلوں پر بھارت کے خلاف نفرت آمیز تقاریر اور پیغامات بھی پھیلا رہی ہیں اور وہ جموں وکشمیر کی بھارت سے علیحدگی اور پاکستان کے ساتھ انضمام کی بھی حمایت کرتی ہیں ۔ این آئی نے رواں سال27 اپریل کوآسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین اوردختران ملت کے دیگر رہنمائوں کے خلاف این آئی اے پولیس اسٹیشن نئی دلی میں ایک مقدمہ درج کیا تھا۔

جس کے بعد تینوں خواتین کو6 جولائی کو گرفتار کر کے تہاڑ جیل میں نظربند کردیا گیا ۔ چارج شیٹ میں الزام عائد کیاگیا ہے کہ آسیہ اندرابی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹوں اور میڈیا پربھارتی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور وہ سرکشی اور بغاوت کے جذبات کو ابھار رہی ہیں اور مذہبی بنیادوں پر مختلف فرقوں کے درمیان نفرت اور دشمنی کو بڑھا رہی ہیں ۔

وہ سماجی پیلٹ فارم کوکشمیری نوجوانوں کو بھارتی حکومت کے خلاف مسلح جدوجدہ شروع کرنے پر اکسانے کیلئے استعمال کرتی ہیں تاکہ کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کے بعد پاکستان کے ساتھ الحاق کیا جاسکے ۔ این آئی اے نے چارج شیٹ میں دختران ملت کی دیگر دو خواتین رہنمائوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کے خلاف بھی ایسے ہی الزامات عائد کئے ہیں اورکہاہے کہ دونوں رہنمائوںکا بھارتی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے میں کلیدی کردار ہے ۔بیان میں کہاگیا ہے کہ دختران ملت کے دیگر اراکین کے خلاف اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں ۔