سید علی گیلانی کا غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کی حالت زار پر اظہار تشویش

نظر بندوں کو بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حریت چیئرمین

جمعرات نومبر 12:20

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ علاقے اور بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کی حالت زار پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظر بندوں کو بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت اس وقت ہزاروں نوجوان تھانوں ، جیلوں اور تفتیشی مراکز میں جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں نظر بند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کہ انہیں انتقام اور نفرت کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ کشمیری جوانوں کو فرضی مقدمات میں ملوث کر ان کے مستقبل کو تاریخ بنایا جارہا اور انہیں بغیر کسی عدالتی کارروائی کے برسہا برس تک قید رکھا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عمر قید کی سزا پانے والے ڈاکٹر محمد قاسم، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، شیر علی بٹ، مرزا نثار، لطیف احمد واجہ جیسے درجنوں لوگ اپنی سزا ئیں مکمل کرچکے ہیں، لیکن متعصب حکمران انہیںرہا نہیں کر رہے۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ مسرت عالم بٹ اور محمد یوسف فلاحی پر ہر چھ ماہ کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے ان کی نظر بندی کو طول دیاجاتاہے جبکہ کورٹ بلوال، تہاڑ جیل اور دیگر جیلوں میں سینکڑوں کشمیری نظر بندوں کے تمام حقوق سلب کرکے انہیں جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی جاتی ہیں۔سید علی گیلانی نے کہا کہ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ’این آئی اے ‘ کی طرف سے گرفتار شبیر احمد شاہ،پیر سیف اللہ،الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، راجہ معراج ا لد ین کلوال، شاہد الا سلام ، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی ، ناہیدہ نسرین ، نعیم احمد خان ، شاہد یوسف ،فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی ،محمد اسلم وانی اور سید شکیل احمد کی نظر بندی کو بھی اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے طول دیا جا رہا ہے جبکہ گزشتہ 8 برس سے تہاڑ جیل میں نظر بند ڈاکٹر غلام محمد بٹ کے مقدمے میں 240 فرضی گواہ رکھے گئے ہیں اور 8 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک صرف 33گواہوں کو ہی عدالت میں پیش کیا جاسکا ہے۔

سید علی گیلانی نے ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی ،غلام قادر بٹ، غلام محمد خان سوپوری، غلام احمد گلزار، حکیم عبدالرشید، نثار حسین راتھر، محمد ایوب میر، شوکت احمد خان، محمد یوسف میر،عبدالغنی بٹ، نذیر احمد ڈنٹر، بلال احمد کوٹہ، محمد ایوب ڈار، فیروز احمد بٹ، طارق احمد بٹ، بشیر احمد قریشی، عمر عادل ڈار، شبیر احمد ڈار، شکیل احمد بخشی، عاشق حسین بٹ، بشارت احمد میر، منظور احمد نجار، ریاض احمد ڈار، لطیف احمد راتھر، لطیف احمد ڈار، شوکت احمد گنائی، مشتاق احمد گنائی، سجاد احمد بٹ، مشتاق الاسلام، عبد ا لغنی بٹ، اسدا للہ پرے، فاروق توحیدی، بلال احمد گنائی، ریاض احمد آہنگر، حکیم شوکت، معراج الدین گوجری، سجاد مولوی، عبدالمجید بٹ، فاروق احمد شاہ، عبد الرشید مغلو، شیخ محمد رمضان، عاشق حسین نارچور، سرتاج احمد، سراج ا لدین، عمر خان اور دیگر کی نظربندی کو طول دینے کی حکومتی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے بیشتر افراد پر لاگو کالا قانون’ پی ایس اے‘ ہائیکورٹ نے کئی بار کالعدم قرار دیا ہے لیکن انہیں پھر بھی رہا نہیں کیا جا رہاجو انتہائی افسوسناک ہے۔