اپوزیشن ارکان کا واک آئوٹ، کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ایوان بالا کا اجلاس 30 منٹ تک ملتوی کیا گیا

کورم پورا رکھنا حکومت کی زیادہ ذمہ داری ہے، حکومت کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے، چیئرمین سینیٹ ایوان کے ماحول کو خوشگوار رکھنا حکومتی اور اپوزیشن ارکان دونوں کی ذمہ داری ہے، مشاہد اللہ خان نے وزیر اطلاعات کے بارے میں نامناسب اور غیرپارلیمانی الفاظ استعمال کئے، سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز بدمزگی پر معذرت کئے جانے تک ایوان میں نہیں بیٹھیں گے، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق

جمعرات نومبر 13:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) ایوان بالا کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سی30 منٹ تک ملتوی کر دیا گیا۔ جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے واک آئوٹ کیا جس کے بعد سینیٹر میر کبیر محمد شاہی نے ایوان میں آ کر کورم کی نشاندہی کر دی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی جس کے بعد گنتی کرنے پر ایوان میں اراکین کی مطلوبہ تعداد پوری نہ تھی جس کے بعد چیئرمین سینیٹ نے ایوان کی کارروائی آدھ گھنٹہ کے لئے ملتوی کر دی۔

قبل ازیں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ کورم پورا رکھنا حکومت کی زیادہ ذمہ داری ہے، حکومت کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اپوزیشن کی طرف سے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کے بعد چیئرمین سینیٹ نے قائد ایوان سے کہا کہ وہ بڑے پن کا مظاہرہ کریں کیونکہ اس وقت آپ کی حکومت ہے، کورم رکھنے کے حوالے سے حکومت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے قائد ایوان اور وزراء کو ہدایت کی کہ وہ واک آئوٹ کرنے والے اراکین کو منا کر واپس لائیں۔اس سے قبل سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ایوان کے ماحول کو خوشگوار رکھنا حکومتی اور اپوزیشن ارکان دونوں کی ذمہ داری ہے، مشاہد اللہ خان نے وزیر اطلاعات کے بارے میں نا مناسب اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے، دونوں کی تقاریر نکال لیں، سب کچھ سامنے آ جائے گا، حکومتی پالیسیوں پر بے شک تنقید کریں لیکن کسی کے بارے میں ذاتی، کم درجے اور گھٹیا الفاظ کا استعمال زیب نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے میں ناں مانوں والی بات اپنائی ہوئی ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ پارلیمنٹ کا احترام اور وقار سب سے مقدم ہے اور ہم بطور حکومت دل بڑاکرنے کے لئے تیار ہیں لیکن اپوزیشن کا کوئی رکن کسی کی ذات پر بات کرے اور کم درجے اور گھٹیا کلمات ادا کرے تو اس وقت اپوزیشن کیوں نہیں بولتی، اس وقت اپوزیشن کو ایوان کے تقدس کا خیال کیوں نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کا مسئلہ ہمارے ملک میں موجود ہے اور ہماری انتخابی مہم بھی اس پر تھی اور اسی لئے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشاہد اللہ خان اور وزیر اطلاعات کی تقاریر نکال لیں، سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشاہد اللہ خان نے غیر پارلیمانی اور نامناسب کلمات ادا کئے، میں معذرت کرنے کو تیار ہوں لیکن اس معاملے کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوام دیکھ رہے ہیں کہ کون ایوان نہیں چلنے دے رہا۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا کہ بدھ کے روز ایوان میں جو بدمزگی ہوئی جب تک اس پر معذرت نہیں کی جاتی، ہم ایوان میں نہیں بیٹھیں گے۔ ایوان کے وقار پر اس بدمزگی کا اثر کم نہیں ہو سکتا، اس کا علاج نہ تو چیئرمین کے پاس ہے اور نہ ہی ہمارے پاس ہے بلکہ اس کا علاج حکومت کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے طے کر لیا ہے کہ جب تک معافی نہیں مانگی جائے گی، ایوان میں بیٹھنا بے کار ہے۔ سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ جب تک وزیر اطلاعات معافی نہیں مانگیں گے، ہم ایوان میں نہیں بیٹھیں گے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ہم احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں، مشاہد اللہ خان نے بات ختم کر دی تھی، اپوزیشن کے ساتھ ساتھ چیئرمین کی بھی عزت ہے، ہم قائد ایوان کا احترام کرتے ہیں۔

سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ ہم ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کے معاملے پر بات کرنا چاہتے تھے، کل بھی ہماری بات سنجیدگی سے نہیں سنی گئی، اگر سنجیدگی سے بات سن لی جاتی تو خیبرپختونخوا میں آج احتجاج کی جو صورتحال ہے وہ شاید نہ ہوتی۔ سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ ایوان میں بدھ کو جو کچھ ہوا وہ پہلی بار نہیں ہوا، اب تو یہ روش ہی چل پڑی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ایوان کی کارروائی آگے بڑھے لیکن ہم ایوان کی حرمت اور چیئر کی عزت کا تقدس برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے، پارلیمانی روایات کا خیال رکھا جانا چاہیے۔اس کے بعد اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آئوٹ کر گئے۔