پاناما کیس جے آئی ٹی رپورٹ قابل قبول شہادت نہیں‘نوازشریف

مشرف کے مارشل لاءکے بعد ایجنسیاں کاروباری ریکارڈ لے گئیں جو واپس نہیں کیا گیا‘ سابق وزیراعظم کا احتساب عدالت میں بیان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات نومبر 13:12

پاناما کیس جے آئی ٹی رپورٹ قابل قبول شہادت نہیں‘نوازشریف
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 نومبر۔2018ء) العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے دیئے گئے بیان میںکہا ہے کہ 1999ء میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد شریف خاندان کے کاروبار کا ریکارڈ مختلف ایجنسیاں لے کرچلی گئیں. العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت احتساب عدالت میں ہوئی، اس موقع پر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا.

بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ مقامی پولیس اسٹیشن میں کاروباری ریکارڈ کے ایجنسیوں کے لے جانے کی شکایت بھی درج کرائی لیکن کوئی اس پر کارروائی نہیں کی گئی اور 1999ءمیں قبضے میں لیا گیا ریکارڈ آج تک واپس نہیں کیا گیا.

(جاری ہے)

نواز شریف نے کہا کہ صرف 1999ءمیں ہی یہ نہیں ہوا، یہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ 1972ءمیں پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیل مل اتفاق فاﺅنڈری کو قومیا لیا گیا‘ 1972 میں سیاست میں بھی نہیں تھا ،میں نے 80ءکی دہائی میں سیاست کا آغاز کیا.

انہوں نے کہا کہ پاناما کیس سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹ قابل قبول شہادت نہیں کیونکہ اس کے دس والیم محض ایک تفتیشی رپورٹ ہے. نواز شریف کو مجموعی طور پر 151 سوالات کے جواب دینے دہیں گزشتہ روز انہوں نے 45 سوالات کے تحریری جواب دیئے تھے جبکہ آج مزید 45 سوالات کے جواب جمع کروا دیئے گئے ہیں. نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ میں 10 دسمبر 2000 سے 2007 تک جلاوطن رہا، 1999 کے مارشل لاءکے بعد ہمارے کاروبار کا ریکارڈ قبضے میں لیا گیا اور اس حوالے سے شکایت بھی درج کرائی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی.

فاضل جج نے استفسار کیا کہ جب یہاں سے گئے تو آپ کی جیب خالی تھی،اکاﺅنٹس منجمد کر دیئے گئے تھے. سابق وزیر اعظم نے اپنے جواب میں کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا اس سے قبل 2 جنوری 1972 میں بھی ایسا ہو چکا تھا، ہماری اتفاق فاﺅنڈری کوقومیا لیا گیا تھا، اتفاق فاﺅنڈری کے بدلے کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا گیا‘ یہ کہنا درست نہیں کہ سعودی عرب میں ہمارے پاس وسائل یا پیسہ نہیں تھا ، حقیقت یہ ہے کہ میرے والد نے پیسوں کا انتظام کیا اور خاندان کے افراد کی ضروریات کو پورا کیا.

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نیب نے صبیحہ عباس اور شہباز شریف کے نام جائیداد کے کاغذات بھی قبضے میں لیے، رمضان شوگر ملز اور چوہدری شوگر ملز کو مذموم مقاصد کے تحت کام کرنے کی اجازت دی گئی. چوہدری شوگر ملز سے 110ملین اور رمضان شوگر ملز 5ملین روپے نکلوا لیے گئے، نکلوائی گئی رقم واپس نہیں کی گئی‘ جلاوطنی کے بعد واپسی پر نیب کے اقدامات کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ، لاہور ہائیکورٹ نے نیب کے اقدامات کو کالعدم قرار دیا.

نوازشریف نے سوالات کے جواب میں کہا کہ ریکارڈ پر ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ مختصر نام ہے، اس کا پورا نام ہل انڈسٹری فارمیٹل اسٹیبلشمنٹ ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کوئی قابل قبول شہادت نہیں، اس کے دس والیم محض ایک تفتیشی رپورٹ ہے، میرے ٹیکس ریکارڈ کے علاوہ جے آئی ٹی کی طرف سے پیش کی گئی کسی دستاویز کا میں گواہ نہیں جو میں نے خود جے آئی ٹی کو فراہم کیا تھا. میرے خلاف شواہد میں ایم ایل ایز پیش کئے گئے ، سعودی عرب سے ایم ایل اے کا کوئی جواب ہی نہیں آیا تھا، یو اے ای سے آنے والا ایم ایل اے کا جواب درست مواد پر مبنی نہیں،حسن نواز کا انٹرویو اور متفرق درخواستیں بطور شہادت نہیں پڑھی جاسکتیں.