ٹی بی کے مرض کی روک تھام کے لئے تمام پارٹنرز مزید محنت اور کوآرڈینیشن سے کام کریں‘ ڈاکٹر زرفشاں طاہر

حکومت تمام سہولیات مفت فراہم کر رہی ہے،مسنگ مریضوں کی رجسٹریشن ٹارگٹ ہے‘ ڈائریکٹر ٹی بی کنٹرول پروگرام

جمعرات نومبر 13:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) پراونشل ڈائریکٹر پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے تپ دق کی روک تھام کے لئے صوبہ میں کام کرنے والی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید محنت اور کوآرڈینیشن کے ساتھ فیلڈ میں کام کریں تاکہ ٹی بی کے مسنگ مریضوں کو تلاش کر کے انکی رجسٹریشن اور اعلاج ممکن بنا یا جا سکے۔ڈاکٹر زرفشاں کا کہنا تھا کہ حکومت تپ دق کے مریضوں کی تشخیص اور علاج کی تمام سہولیات مفت فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے یہ بات پاکستان انٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کے دفتر میں پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام کے پارٹنرز سے میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں جنوری 2018 سے ستمبر تک کے دوران مذکورہ غیر سرکاری سماجی تنظیموں کی تپ دق کی روک تھام، عوامی شعور اجاگر کرنے، مریضوں کی تلاش اور رجسٹریشن کے حوالے سے کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے حکمت عملی کے بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں mercy corps, PATA, PLYC, ASD, Green Star اور Indus کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنی اپنی پرفارمنس کے بارے پریزنٹیشن دی۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام (PTP) ڈاکٹر آصف، ڈویلپمنٹ پارٹنر آپریشن گلوبل فنڈ زبیر احمد شاد، ڈاکٹر عثمان، ڈاکٹر جویریہ، PATA کے صدر چودھری محمّد نواز اور دیگر عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈائریکٹر پروگرام ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے مزید کہا کہ حکومت اور گلوبل فنڈ کی جانب سے فراہم کردہ وسائل کا استعمال نہایت احتیاط کے ساتھ درست طریقہ پر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہPTP نے ٹی بی کے مرض کی تشخیص کے لئے جدید جین ایکسپرٹ مشینیں بھی فراہم کردی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے مریضوں کی تلاش اور اسکریننگ کے لئے فراہم کردہ وینز کو ہارڈ ایریا میں مریضوں تک رسائی کے لیے استمال کیا جائے کیوں کہ بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات آسانی سے دستیاب ہیں۔ ڈاکٹر زرفشاں نے بتایا کہ وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہدایت پر ٹی بی کے رجسٹر مریضوں کا HIV ٹیسٹ بھی شروع کردیا گیا ہے اور اب تک 80 ہزار ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔

گلوبل فنڈ کے نمائندے زبیر احمد شاد کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمام نجی ڈاکٹر ز اور جنرل پریکٹیشنرز پر لازمی کر دیا ہے کہ وہ کلینک پر آنے والے ٹی بی کے مشتبہ یا کونفرم مریض کے بارے PTP کو رپورٹ کریں تاکہ مریض کا باقاعدہ اعلاج شروع کیا جا سکے۔