تربیلا ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبہ سے بجلی کی بندش کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی

جمعرات نومبر 13:40

تربیلا غازی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) تربیلا ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبہ سے بجلی کی بندش کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی۔بجلی کی بندش کا سارا ملبہ سابق حکومت پر ڈال دیا گیا۔ سابقہ حکومت کی جلد بازی کے باعث منصوبہ کا افتتاح کیا گیا ۔منصوبہ سے بجلی کی پیداوار کی بندش سے ملک کو روزانہ بارہ سے پنددہ کروڑوں روپے کا نقصا ں برداشت کرنا پڑا تھا۔

تقربیا ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک منصوبہ سے بجلی کی پیداواربند رہی تھی۔تفصیلات کے مطابق باخبر ذرائع سے معلوم ہو ا ہے واپڈا نے 1410 میگاواٹ بجلی کی پیدا وار کے حامل تربیلا ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبہ سے بجلی کی بندش کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کر دی گئی ہے۔منصوبہ سے یونٹ نمبر 16اور یونٹ نمبر 17 نے کے ڈرافٹ گیٹ مٹی میں دب گئے تھے جس کی وجہ سے تقر بیا ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک بجلی کی پیدا وار بند رہی تھی جس سے ملک کو تقریب ایک اندازے کے مطابق ایک ارب سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا جس کا وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دیا تھا ۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ جو واپڈا کے حکام نے تیار کی ہے میں سابق حکو مت کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ جس کی وجہ سے منصوبہ کے یونٹ نمبر سترہ کا فتتاح کیا گیا تو اُس وقت پانی ڈیڈ لیول پر تھا مگر سابقہ حکومت کے دبائو میں آکر اس کا دس مارچ 2018 کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے افتتاح کیا تھا۔مگر یونٹ افتتاح کے بعد صرف ایک روز کے لئے آپریشنل کرنے کے بعد بند کر دیا گیا ۔

اُس کے بعد یونٹ کو دوبارہ 8 جون کو دوبارہ آپریشنل کیا گیا مگر یونٹ سولہ و سترہ کے ڈرافٹ گیٹ میں مٹی بھر جانے سے بند ہو گئے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افتتاح کے لئے سابق حکومت کادبائو تھا ۔ مگر جون میں جب یونٹ نے دوبارہ پیدا وار کے لئے آپریشنل کیا گیا تو آس وقت نگران حکومت تھی۔ لہذا سارا ملبہ سابق حکومت کے ساتھ واپڈا بھی بندش کا ذمہ دار ہے جس میں انجینئرز سٹاف بھی شامل ہے۔ اگر ڈیم میں پانی ڈیڈ لیول پر تھا تو پھر دونوں یونٹوں کو کیوں چلایا گیا تھا۔حالانکہ غیر ملکی تعمیراتی کمپنی نے ایک خط کے ذریعے واپڈا کو یونٹون آپریشنل کرنے کی اجازات نہیں دی تھی ۔