ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کے مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے گا، اسلام آباد میں سیف سٹی منصوبے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی

طاہر داوڑ شہید پاکستان کے بیٹے ہیں اور ریاست تمام پاکستانیوں کے جان و مال کی محافظ ہے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا ایوان بالا میں پالیسی بیان

جمعرات نومبر 14:00

ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کے مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے گا، اسلام ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ایس پی طاہر خان داوڑ شہید کو 26 اکتوبر کو اسلام آباد سے اغواء سے کیا گیا، انہیں پہلے بھی دھمکیاں مل رہی تھیں، ان کے اہل خانہ ملنے والی دھمکیوں کے باعث اسلام آباد منتقل ہو چکے تھے، وزیراعظم نے انہیں شہید کرنے کے واقعہ کی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے، اس واقعہ کے مجرم افغانستان میں ہوں یا پاکستان میں انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا، اسلام آباد میں سیف سٹی منصوبے کے 600 سے زائد کیمرے کام ہی نہیں کر رہے، اس منصوبے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی۔

جمعرات کو ایوان بالا میں پالیسی بیان دیتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ طاہر داوڑ کی شہادت کا واقعہ انتہائی دل سوز اور تکلیف دہ ہے اور اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے اور خاص طور پر پولیس کے حوالے سے سوالیہ نشان ابھر کر سامنے آتا ہے، طاہر خان داوڑ شہید پاکستان کے غیرت مند بیٹے ہیں، ان پر پہلے بھی دو مرتبہ خودکش حملے ہوئے، ان کی جان کو اتنا خطرہ تھا کہ وہ سات سال خیبرپختونخوا سے باہر رہے اور2017ء میں ان کا خاندان منتقل ہو کر بہارہ کہو آ گیا، ان کے ایک بھائی اور بھابی کو بھی شہید کر دیا گیا، 26 اکتوبر کو سوا چھ بجے وہ جی ٹین میں ایک شادی کی تقریب میں پہنچے تھے، 7 بج کر 45 منٹ پر ان کے بھائی فرحان احمد الدین داوڑ نے تھانہ رمنا اسلام آباد میں رپورٹ درج کرائی، 28 اکتوبر کو ایف آئی آر درج کی گئی، یہ ایک حساس معاملہ تھا ان کا اپنے اہل خانہ کو جو آخری پیغام ملا اس میں انہوں نے کہا کہ ’’میں محفوظ ہوں اور آپ پریشان نہ ہوں‘‘، 13 نومبر تک انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کرتے رہے، 13 نومبر کو پہلی مرتبہ میت کی تصویر سامنے آئی، اس وقت تک کوئی مصدقہ خبر یا اطلاع نہیں تھی اس لئے کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے تھے، 14 نومبر کو افغان حکومت نے طاہر داوڑ شہید کی خبر کی تصدیق کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ، آئی جی خیبرپختونخوا اور آئی جی اسلام آباد سے فوری طور پر انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک دشوار گزار سرحد ہے اور افغانستان کی طرف کوئی پیٹرولنگ کا طریقہ کار بھی نہیں ہے، اس پر ہم نے کئی بار بات بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سیف سٹی منصوبے کے تحت 1800 کیمرے لگائے گئے ہیں لیکن ایک کیمرے میں بھی اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ نمبر پلیٹ یا گاڑیوں میں سوار افراد کے بارے میں کوئی معلومات دے سکے حالانکہ 95 فیصد رقم تو ایم او یوز دستخط کرتے ہی جاری کر دی گئی تھی، اس وقت بھی 600 سے زائد کیمرے کام ہی نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ شہید کو اغواء کرنے کے بعد پہلے پنجاب لے جایا گیا دو دن بعد براستہ میانوالی انہیں بنوں پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی پاکستان کے اندر سے بعض جوانوں کو اٹھا کر افغانستان لے جایا گیا اور پھر ان کی لاشیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کے حق میں ہیں کہ ایوانوں میں پولیس، ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں بحث ہونی چاہیے، چیئرمین سینٹ سیف سٹیز کے نام پر کیمروں کی تنصیب کے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کریں، وزارت داخلہ بھی اس سلسلے میں تحقیقات کرائے گی، کس کس نے اس منصوبے میں کک بیکس اور فائدے لئے۔

انہوں نے کہا کہ طاہر داوڑ شہید پاکستان کے بیٹے ہیں اور تمام پاکستانیوں کے جان و مال کی محافظ ریاست ہے، یہ وقت اتحاد کا مظاہرہ کرنے کا ہے، پاکستان کو عدم استحکام سے جو لوگ دوچار کرنا چاہتے ہیں انہیں بھی یہ پیغام دینا ہے کہ ہم ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجرم چاہے پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں ہم انہیں نشان عبرت بنائیں گے۔