ملک کو قرضوں میں جکڑ کر خود بیرون ملک جائیدادیں بنانے والے ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس نہیں کریں گے تو آگے کیسے بڑھیں گے، سینیٹر فیصل جاوید کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

جمعرات نومبر 15:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ عام انتخابات 2013ء میں دھاندلی کے حوالے سے تمام فورمز پر گئے، چار حلقے کھولنے کا مطالبہ تھا، تین سالوں میں عوام غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے، ماضی کے حکمرانوں کے معیار زندگی اور جائیدادیں بنیں، پوری دنیا میں جائیداد بنائی گئی، احتساب کا عمل جاری رہے گا۔

جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف 2018ء کے عام انتخابات کے حوالے سے قائم کی گئی، پارلیمانی کمیٹی سے نہیں بھاگ رہے، اس حوالے سے اپوزیشن بھاگ رہی ہے، 2013ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے چار حلقے کھولنے کی بات کی لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے صاف انکار کر دیا اور انصاف کے لئے ہر فورم پر گئے مگر کسی سے انصاف نہیں ملا، اس کے بعد تحریک انصاف نے احتجاج کا راستہ اختیار لیکن اپوزیشن حوصلے سے کام لے، حکومت بنے دو ماہ ہوئے ہیں، ابھی کمیٹی کا قیام ہوا ہے، اس کو کام کرنے دیا جائے تاکہ کسی نتیجہ پر پہنچا جا سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے تیس سال ملک کو چلایا، کرپشن کی انتہا کی، ملک کو قرضوں میں جکڑ کر خود بیرون ملک بھی جائیدادیں بنانے میں کامیاب ہوئے، وہ اپنی غلطی اور ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس نہیں کریں گے تو آگے کیسے بڑھیں گے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے احتساب کے نام پر پارٹی بنائی اور کرپشن کے خاتمے کی بنیاد رکھی، کسی صورت احتساب کا عمل نہیں رکے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت رحمت العالمین کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے جس میں عالمی سطح پر سکالرز شرکت کریں گے، وزارت مذہبی امور اس کی میزبانی کرے گی۔