کرپشن ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، ایسا بل لائیں گے کہ کوئی کرپشن کرنے والا جمہوریت اور سیاست کے پیچھے نہیں چھپ سکے گا، سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز کا ایوان بالا میں اظہار خیال

جمعرات نومبر 15:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پارلیمان کا تقدس اور احترام تبھی ہو گا جب عوام کو نظر آئے کہ ملک کے ادارے ان کی بحالی، خوشحالی اور امن کے لئے کام کررہے ہیں، اپوزیشن سے اتفاق کا یہ مطلب نہیں کہ حکومتی ارکان ایوان بالا میں ان معاملات پر بات نہیں کریں گے جن پر انہیں کرنی چاہیے، کرپشن ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، ہم ایسا بل لائیں گے کہ کوئی کرپشن کرنے والا جمہوریت اور سیاست کے پیچھے نہیں چھپ سکے گا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ رولز کے مطابق کام ہو تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوتا، امید کرتے ہیں کہ اس ایوان میں ان امور پر ہی بات ہو گی جو عوام کے فائدے کے لئے ہو گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت اور اداروں کی کارکردگی کے بارے میں بات کرنے کا ہر کسی کو حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کا شروع سے ہی رونا رو رہے ہیں، ہمارے ملک کے ادارے غیر فعال ہوچکے ہیں، قابل افسران کی بجائے وفاداروں کو نوازے کی وجہ سے ایسا ہوا، سیاسی تعیناتیوں سے اداروں کی صلاحیت متاثر ہوئی، خیبرپختونخوا میں ہم نے پولیس کو غیر سیاسی بنایا ہے، سفارش کی بنیاد پر ہم نے تعیناتیاں نہیں کیں، بدقسمتی سے باقی ملک میں ایسا نہیں ہوا، اب ہم اہل افراد کو اداروں میں تعینات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں سلمان تاثیر کے صاحبزادہ، یوسف رضا گیلانی اور پروفیسر اجمل خان بھی اغواء ہوئے تھے، ہم کہتے ہیں کہ یہ نہیں ہونا چاہیے، سیف سٹی منصوبے کے ذکر پر کسی کو سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں، عوام کے ٹیکسوں سے یہ منصوبہ مکمل ہوا ہے، کرپشن دیمک کی طرح ملک کو چاٹ رہی ہے، کرپشن نہ ہوتی تو کرنٹ اکائونٹ خسارہ، گردشی قرضہ اور معیشت کی حالت یہ نہ ہوتی، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کو ختم کریں، احتساب بھی ہو گا، احتساب کے اداروں کو فعال بھی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا سے کچھ ملازمین کو نکالنے کے معاملے سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں، میڈیا کرپشن کے خلاف جدوجہد میں ہمارے شانہ بشانہ رہا ہے، ہماری پوری کوشش ہو گی کہ کیمرہ مین اور صحافیوں کی ملازمت کو تحفظ حاصل ہو، میڈیا پر اثر انداز نہیں ہوں گے، ہم ہر حال میں صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔