اسلام آباد ہائی کورٹ ، وزارت دفاع نے ریٹائرڈ افسر کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ جمع کروا دی

ریٹائرڈ افسر زیر حرا ست ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم سے تحقیقات جاری ہیں، وزارت دفاع کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

جمعرات نومبر 16:10

․اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارت دفاع نے حساس ادارے سے بریگیڈیئر کے عہدے سے ریٹائرڈ افسر کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ جمع کروا دی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے فریقین تحریری دلائل جمع کروا دیں ۔ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔

جب سماعت شروع ہوئی وزارت دفاع کی جانب سے فلک ناز عدالت میں پیش ہوئے ۔ نمائندہ وزارت دفاع نے حساس ادارے کے ریٹائرڈ افسر رضوان راجہ کے آرمی کی زیر حراست ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے عدالت کو بتایا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم سے تحقیقات جاری ہیں ۔ فاضل جسٹس نے استفسار کیا ، کیا آپ کا کورٹ مارشل کا پروسیجر الگ ہوتا ہی وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا آرمی ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل ہو گا اور کورٹ مارشل کی کارروائی ہو گی ۔

(جاری ہے)

آرمی کا اپنا طریقہ کار ہے اور قانون کے مطابق روٹین کیسز ہوتے ہیں ۔ درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ 48 گھنٹے میں کمانڈنٹ آفیسر کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں 30 دن گزر گئے الزام کی چارج شیٹ ریکارڈ پر نہیں لائی گئی ۔ فیملی ممبرز اور وکلاء کو ملزم سے ملنے کی اجازت دی جائے ۔ وزارت دفاع کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تحقیقات کے دوران ہر آٹھ دن بعد اٹھارٹیز سے مزید وقت لیا جاتا ہے الزامات کی چارج شیٹ چیمبر میں فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں ۔

فاضل جج نے ریمارکس دیئے فریقین تحریری طور پر دلائل جمع کروا دیں ۔ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔ بعدازاں عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی ۔ واضح رہے بریگیڈیئر رضوان راجہ 2014 میں آرمی سے ریٹائر ہوئے جس کے بعد ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کر دی گئی ۔ ۔