سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے صنعتی زون کو تعین حد میں قرار دینے پر آلودگی کیس نمٹا دیا

آئی نائن ‘ٹین انڈسٹریز مالکان نے پہلے بہت تنگ کیا ‘چیف جسٹس کے ریمارکس

جمعرات نومبر 16:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) سپریم کورٹ نے ڈائیکٹر جنرل ای پی اے کی طرف سے اسلام آباد کے صنعتی زون کو تعین شدہ حد کے اندر قرار دینے پر ماحولیاتی آلودگی کیس میںوفاقی دارالحکومت کے سیکٹر آئی نائن اور ٹین کی حد تک معاملہ نمٹا دیا ہے ۔

(جاری ہے)

کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ آئی نائن اور ٹین کی اسٹیل انڈسٹریز مالکان نے پہلے بہت تنگ کیا آج ڈی جی ای پی اے خوشبخری سنا رہے ہیں کہ وہاں کے حالات بہتر ہوگئے ہیں اور انڈسٹری مالکان نے ای پی اے کے طے شدہ معیار حاصل کرلئے ہیں ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرویز نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ اینٹ کے بھٹوں سے پھیلنے والی آلودگی پر قابو پانے کیلئے پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ریڈ زون میں بھٹوں پر مکمل پابندی جبکہ گرین زون میں کام کرنے کی اجازت اور ییلو زون میں کیس ٹو کیس اجازت دی جائیگی اس حوالے سے سیکرٹری ماحولیات گورنر اسٹیٹ بینک اور سپارکو کے تعاون سے اہم معاملات کا تبادلہ کیا جارہا ہے کوشش کررہے ہیں کہ بھٹوں کی ٹیکنالوجی بدل کر انہیں ماحول دوست بنادیا جائے بھٹو کو ماحول دوست ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنے کیلئے فی بھٹہ بیس لاکھ روپے خرچہ ہوگا اس سے بھٹوں کی بندش سے بے روزگاری کے پیدا ہونے والے مسائل کا حل ممکن ہوگا ڈی جی ای پی اے نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ رات ڈاکٹر پرویز کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت کے انڈسٹریل زون کا دورہ کیا جہاں حالات بالکل بدل رہے ہیں اسٹیل انڈسٹری مالکان نے ای پی اے کے پیرا میٹرز بھی فالو کرنا شروع کردیئے عدالت نے ماحولیاتی آلودگی کے اسلام آباد کی حد تک معاملہ نمٹاتے ہوئے کیس کی سماعت پندرہ دن تک ملتوی کردی