حکومت کا جنوبی پنجاب صوبےکی جلد خوشخبری دینےکا فیصلہ

صوبہ جنوبی پنجاب میں علیحدہ سیکرٹریٹ بنے گا، جہاں چیف سیکرٹری، پولیس اوردیگر تمام محکموں کے نمائندے بیٹھا کریں گے، جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے، لوگوں کو سفر کرکے لاہورنہیں آنا پڑےگا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات نومبر 16:26

حکومت کا جنوبی پنجاب صوبےکی جلد خوشخبری دینےکا فیصلہ
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 نومبر 2018ء) سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کے حوالے سے جلد خوشخبری دیں گے، وہاں علیحدہ سیکرٹریٹ بنے گا جہاں چیف سیکرٹری، پولیس اور دیگر تمام محکموں کے نمائندے جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں گے اور لوگوں کو اتنی دور سفر کرکے لاہور نہیں آنا پڑے گا۔ سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام میں وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر مزید تبدیلیاں کی جارہی ہیں اور اب پنجاب کے 25 ہزار دیہات میں ویلج کونسلز بنیں گی جن کی خوبی یہ ہو گی کہ ہر گاؤں میں بلاواسطہ طور پر فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔

جس سے صوبے کے تمام دیہاتوں میں ایک ہی وقت میں ترقی ہورہی ہو گی۔

(جاری ہے)

نیا بلدیاتی نظام اس طرز پر لارہے ہیں جس سے نواز لیگ سمیت کسی کو کوئی شکوہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں مکمل طور پر انتظامی اور مالیاتی اعتبار سے بااختیار بلدیاتی نمائندوں کو آگے لایا جائے گا اور اراکین قومی یا صوبائی اسمبلی کے بجائے ہر طرح کا ترقیاتی کام ان بلدیاتی اداروں کے ذریعے کیا جائے گا جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلاشبہ انقلابی اقدام ہوگا۔

عبدالعلیم خان نے اعتراف کیا کہ موجودہ حالات میں مہنگائی بڑھی ہے جس کی ذمہ داری سابقہ حکومت کی ناقص پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز لیگ کی پچھلی حکومت وفاق کی طرح پنجاب کے صوبے کوبھی کنگال کرکے گئی،جنہوں نے قومی خزانے کو اپنے ذاتی گھروں کی حفاظتی دیواروں کی تعمیر پر خرچ کیا،سرکاری پیسوں سے اپنے گھروں کے کچن چلائے اور لوٹی ہوئی دولت اور کمیشن کے ذریعے اپنی تجوریاں بھری۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ موجودہ حکومت پر سیاسی انتقام کے الزامات پر واویلا بلاجواز ہے۔کیونکہ گزشتہ 80 دنوں میں ہم نے کسی پر ایک کیس نہیں بنایا یہ وہ تمام کیسز جو نواز لیگ نے پیپلز پارٹی پر یا پیپلز پارٹی نے نواز لیگ پر بنائے اور آج ان کے ٹرائل کے نتائج ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ان کی دم پر پاؤں آیا ہے تو شورشرابا کیا جارہا ہے،حمزہ شہباز یا کسی اور کو اس وقت کیوں خیال نہیں آیا جب 2015ء مجھ پر صرف اس لئے کیس بنانے شروع کئے گئے کہ میں این اے 122کے ضمنی الیکشن میں نواز لیگ کو ناکوں چنے کیوں چبوائے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 2007ء میں وزارت چھوڑ دی تھی اور اس کے 8 سال بعد مجھ پر کون سے سامنے آ گئے تھے؟ عبدالعلیم خان نے کہا کہ آج انتقامی کاروائیوں کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے اور حوصلے کے ساتھ ان حقائق کا سامنا کرنا چاہیے جو نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے کرتوتوں سے سامنے آرہے ہیں۔ایک سوال کے جوا ب میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ گلے شکوے جائز ہوں تو ان کو حل بھی ہونا چاہیے۔

چودھری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی ہمارے اتحادی ہیں اوران سے پی ٹی آئی کا ساتھ اور محبت دو طرفہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ق لیگ یا تحریک انصاف کسی بھی پارٹی کے رکن کے جائز تحفظات ضرور دورہونے چاہئیں۔ایک اورسوال کے جواب میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کے حوالے سے جلد خوشخبری دیں گے،وہاں علیحدہ سیکرٹریٹ بنے گا جہاں چیف سیکرٹری،پولیس اور دیگر تمام محکموں کے نمائندے جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں گے اور لوگوں کو اتنی دور سفر کرکے لاہور نہیں آنا پڑے گا۔

سینئر وزیر نے سینیٹ کے الیکشن کے حوالے سے کہا کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئی مثال قائم کی گئی ہے اور کسی ایک حلقے میں بھی کسی سیاسی یا انتظامی دباؤ کی شکایات سامنے نہیں آئی۔تحریک انصاف نے سینیٹ کے الیکشن کے لئے بھی ایسی ہی پالیسی اپنائی ہے اور انشاء اللہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک میں ترقی وخوشحالی کے ساتھ ساتھ نئی مثبت سیاسی روایات بھی قائم کریں گے۔