ْنئے بلدیاتی نظام میں مزید تبدیلیاں‘

25ہزار دیہاتوں میں ویلج کونسلز بنیں گی‘عبدالعلیم خان

جمعرات نومبر 16:49

ْنئے بلدیاتی نظام میں مزید تبدیلیاں‘
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام میں وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر مزید تبدیلیاں کی جارہی ہیں اور اب پنجاب کے 25ہزار دیہات میں ویلج کونسلز بنیں گی جن کی خوبی یہ ہو گی کہ ہر گائوں میں بلاواسطہ طور پر فنڈز فراہم کئے جائیں گے ،جس سے صوبے کے تمام دیہاتوں میں ایک ہی وقت میں ترقی ہورہی ہو گی۔

عبدالعلیم خان نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیا بلدیاتی نظام اس طرز پر لارہے ہیں جس سے نواز لیگ سمیت کسی کو کوئی شکوہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں مکمل طور پر انتظامی اور مالیاتی اعتبار سے بااختیار بلدیاتی نمائندوں کو آگے لایا جائے گا اور اراکین قومی یا صوبائی اسمبلی کے بجائے ہر طرح کا ترقیاتی کام ان بلدیاتی اداروں کے ذریعے کیا جائے گا جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلاشبہ انقلابی اقدام ہوگا۔

(جاری ہے)

عبدالعلیم خان نے اعتراف کیا کہ موجودہ حالات میں مہنگائی بڑھی ہے جس کی ذمہ داری سابقہ حکومت کی ناقص پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز لیگ کی پچھلی حکومت وفاق کی طرح پنجاب کے صوبے کوبھی کنگال کرکے گئی،جنہوں نے قومی خزانے کو اپنے ذاتی گھروں کی حفاظتی دیواروں کی تعمیر پر خرچ کیا،سرکاری پیسوں سے اپنے گھروں کے کچن چلائے اور لوٹی ہوئی دولت اور کمیشن کے ذریعے اپنی تجوریاں بھری۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ موجودہ حکومت پر سیاسی انتقام کے الزامات پر واویلا بلاجواز ہے۔کیونکہ گزشتہ 80دنوں میں ہم نے کسی پر ایک کیس نہیں بنایا یہ وہ تمام کیسز جو نواز لیگ نے پیپلز پارٹی پر یا پیپلز پارٹی نے نواز لیگ پر بنائے اور آج ان کے ٹرائل کے نتائج ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ان کی دم پر پائوں آیا ہے تو شورشرابا کیا جارہا ہے،حمزہ شہباز یا کسی اور کو اس وقت کیوں خیال نہیں آیا جب 2015مجھ پر صرف اس لئے کیس بنانے شروع کئے گئے کہ میں این اے 122کے ضمنی الیکشن میں نواز لیگ کو ناکوں چنے کیوں چبوائے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 2007میں وزارت چھوڑ دی تھی اور اس کے 8سال بعد مجھ پر کون سے سامنے آ گئے تھی عبدالعلیم خان نے کہا کہ آج انتقامی کاروائیوں کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے اور حوصلے کے ساتھ ان حقائق کا سامنا کرنا چاہیے جو نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے کرتوتوں سے سامنے آرہے ہیں۔ایک سوال کے جوا ب میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ گلے شکوے جائز ہوں تو ان کو حل بھی ہونا چاہیے۔

چودھری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی ہمارے اتحادی ہیں اوران سے پی ٹی آئی کا ساتھ اور محبت دو طرفہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ق لیگ یا تحریک انصاف کسی بھی پارٹی کے رکن کے جائز تحفظات ضرور دورہونے چاہئیں۔ایک اورسوال کے جواب میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کے حوالے سے جلد خوشخبری دیں گے،وہاں علیحدہ سیکرٹریٹ بنے گا جہاں چیف سیکرٹری،پولیس اور دیگر تمام محکموں کے نمائندے جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں گے اور لوگوں کو اتنی دور سفر کرکے لاہور نہیں آنا پڑے گا۔

سینئر وزیر نے سینیٹ کے الیکشن کے حوالے سے کہا کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئی مثال قائم کی گئی ہے اور کسی ایک حلقے میں بھی کسی سیاسی یا انتظامی دبائو کی شکایات سامنے نہیں آئی۔تحریک انصاف نے سینیٹ کے الیکشن کے لئے بھی ایسی ہی پالیسی اپنائی ہے اور انشاء اللہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک میں ترقی وخوشحالی کے ساتھ ساتھ نئی مثبت سیاسی روایات بھی قائم کریں گے۔