چیئرمین سینیٹ توازن پیدا کریں ورنہ سوچنا پڑے گا، فواد چودھری

مجھے لاکھوں لوگوں نے منتخب کرکے بھیجا ہے جبکہ چیئرمین سینیٹ براہ راست منتخب عوامی نمائندے نہیں،چیئرمین سینیٹ کی رولنگ سے کابینہ مطمئن نہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چودھری کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات نومبر 18:04

چیئرمین سینیٹ توازن پیدا کریں ورنہ سوچنا پڑے گا، فواد چودھری
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 نومبر 2018ء) وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چودھری نے چیئرمین سینیٹ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ توازن پیدا نہیں کرسکتے تو سوچنا پڑے گا، مجھے لاکھوں لوگوں نے منتخب کرکے بھیجا ہے جبکہ چیئرمین سینیٹ براہ راست منتخب عوامی نمائندے نہیں،چیئرمین سینیٹ کی رولنگ سے کابینہ مطمئن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ معاملے کی جانچ پڑتال کی جائے ورنہ ایسے معاملات نہیں چل سکیں گے۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدان ہی ملک چلاتے ہیں اوربرباد بھی کرتے ہیں۔ ہم نے10سال دیکھا ہے کہ کس طرح ملک چلایا گیا ہے۔ حکومت کی193مختلف کمپنیاں مسائل کا شکارہیں۔

(جاری ہے)

سیف سٹی کے نام پر1600کیمرے لگائے گئے ہیں۔600 کیمرے خراب ہیں جوگاڑیوں کی نمبرپلیٹ بھی نہیں دکھا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ طاہرداوڑ کی میت حوالے کرنے کی صورتحال واضح نہیں ہے۔ افغانستان کی طرف سے ایک عجیب مسئلہ چل رہا ہے۔ بارڈرپراس وقت عجیب وغریب صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ 100روزہ پلان کی کامیابیاں عوام کے سامنے رکھیں گے۔ وزیراعظم 29 نومبرکوکارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے۔

ہم نے جو100دنوں میں کیا ہے کوئی حکومت اس کے قریب بھی نہیں پہنچی۔ ہم ای گورننس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کوہرممکن سہولیات دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بیرون ملک قیدیوں کی معاونت حکومت کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کیلئے پوری کوشش کریں گے۔ فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم کا بیوروکریسی کے حوالے سے مئوقف واضح ہے۔

بیوروکریسی کوسیاسی مداخلت سے پاک کرنا ہے۔ وفاقی سیکریٹریزکو6 ماہ کے لیے وزارت میں تعینات کیا جائے گا۔ اسی طرح وفاقی کابینہ کے اجلاس میں میڈیا کو فوری ریلیف دینے کی بات کی ہے۔ جس کے تحت میڈیا کو 23 کروڑ کے فنڈز دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ خان نے 25 فیصد ٹیکس اور 25 فیصد جرمانے کے طور پر جمع کروایا ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ ہمیں غریبوں کے پیسوں کی بات کرنے پر معافی کا کہا جاتا ہے۔

لیکن مشاہداللہ خان نے میرے اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی۔اس پر بھی تومعافی مانگنی بنتی ہے۔ میرے بارے میں چیئرمین سینیٹ کی رولنگ پر کوئی مطمئن نہیں تھا۔ پوری کابینہ نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مجھے لاکھوں لوگوں نے منتخب کرکے بھیجا ہے جبکہ چیئرمین سینیٹ عوامی نمائندے نہیں ہیں۔ وہ براہ راست منتخب نہیں ہوئے ہیں۔ اگرچیئرمین سینیٹ توازن پیدا نہیں کرسکتے تو پھر حکومت کوبھی سوچنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ معاملے کی جانچ پڑتال کی جائے ورنہ ایسے معاملات نہیں چل سکیں گے۔