احتساب عدالت نے محمد نوازشریف کے خلاف دائر العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت (کل ) تک جبکہ فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی

جمعرات نومبر 18:50

احتساب عدالت نے  محمد نوازشریف کے خلاف دائر العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کے خلاف دائر العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت (کل )جمعہ تک جبکہ فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی ہے ۔ محمد نوازشریف نے دوسرے روز بھی بطور ملزم 342کابیان قلمبند کرایا۔ جمعرات کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے سماعت کی ۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے ۔

سماعت کے دوران 4سوالوں کے جواب محمد نوازشریف نے خوددیئے جبکہ دیگر سوالات کے جواب لکھوائے گئے۔ اپنے بیان میں محمد نوازشریف نے کہا کہ دستاویزات کے مطابق ریکارڈ پر ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ مختصر نام ہے جبکہ ہل میٹل کا پورا نام ہل انڈسٹری فار میٹل اسٹیبلشمنٹہے، انہوں نے کہا کہ وہ 10 دسمبر 2000 سے بیوی بچوں اور خاندان کے ہمراہ 2007 تک جلاوطن رہا،اس موقع پر عدالت نے پوچھاکہ جب اپ یہاں سے گئے تو آپ کی جیب خالی تھی آپ کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے تھے ۔

(جاری ہے)

جس پر محمد نوازشریف کاکہناتھاکہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا اس سے قبل 2 جنوری 1972 میں بھی ایسا ہو چکا ہے، جب ہمیں جلاوطن کیا گیاتھا تو ہماری اتفاق فاونڈری کو قومی تحویل میں لے لیا گیا تھا ۔اس موقع پر عدالت نے محمد نواز شریف کی طرف سے تحریری جوابات عدالت میں جمع کرائے جس پر عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دیتے ہوئے 2بجے واپس پیش ہونے کی ہدایت کی،اپنے تحریری بیان میں محمد نوازشریف کاکہناتھاکہ حسن نواز کا انٹرویواور متفرق درخواستیں بطورشہادت نہیں پڑھی جاسکتیں، یہ بات عام علم کی ہے کہ مجھے اہلیہ اور بچوں کے ساتھ دسمبر 2000میں جلا وطن کردیا گیا،مجھے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ بیرون ملک رہنے پر مجبور کیا گیا،کسی نے پوچھا تک نہیں کہ ہمارے پاس کھانے کو بھی کچھ ہے یا نہیں،1972میں تو میں سیاست میں بھی نہیں تھا ، اتفاق فاؤنڈری کے بدلے کوئی کمپنی بھی نہیں دی گئی ،1999کے مارشل لاء کی الگ کہانی ہے ، موقع ملا تو بتائیں گے ،مارشل لاء کے بعد شریف خاندان کے کاروبار کا تمام ریکارڈ تحویل میں لے لیا گیا،ریکارڈ اٹھائے جانے کیخلاف متعلقہ تھانے میں شکایت درج کرائی گئی،متعلقہ تھانے کی طرف سے ہماری شکایت پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،میری جلاوطنی کے دنوں میں نیب نے غیر قانونی طریقے سے ہماری خاندانی رہائش گاہ کو تحویل میں لے لیا،یہ بہت درد ناک کہانی ہے ،نیب نے صبیحہ عباس اور شہباز شریف کے نام جائیداد کے کاغذات بھی قبضے میں لیے ، رمضان شوگر ملز اور چوہدری شوگر ملز کو مذموم مقاصد کے تحت کام کرنے کی اجازت دی گئی،چوہدری شوگر ملز سے 110ملین اور رمضان شوگر ملز 5ملین روپے نکلوا لیے گئے،شوگر ملز سے نکلوائی گئی رقم واپس نہیں کی گئی، جلاوطنی کے بعد واپسی پر نیب کے اقدامات کیخلاف عدالت سے رجوع کیا،لاہور ہائیکورٹ نے نیب کے اقدامات کو کالعدم قرار دیا، یہ کہنا درست نہیں کہ سعودی عرب میں ہمارے پاس وسائل یا پیسہ نہیں تھا، حقیقت یہ ہے کہ میرے والد نے پیسوں کا انتظام کیا اور خاندان کے افراد کی ضروریات کو پورا کیا،جے آئی ٹی کے دس والیم محض ایک تفتیشی رپورٹ ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کوئی قابل قبول شہادت نہیں، محمد نواز شریف نے کہا کہ میرے ٹیکس ریکارڈ کے علاوہ جے آئی ٹی کی طرف سے پیش کی گئی کسی دستاویز کا میں گواہ نہیں،ٹیکس ریکارڈ میں نے خود جے آئی ٹی کو فراہم کیا تھا،میرے خلاف شواہد میں ایم ایل ایز پیش کئے گئے،سعودی عرب سے ایم ایل اے کا کوئی جواب ہی نہیں آیا تھا،یو اے ای سے آنے والا ایم ایل اے کا جواب درست مواد پر مبنی نہیں۔

وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو محمد نوازشریف نے کمرہ عدالت میں اپنے وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے بعد قطری شہزادے کے خطوط سے متعلق لاعلمی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اس سے میراکوئی تعلق نہیں ہے میں کسی حیثیت میں بھی کسی ٹرانزیکشن کا حصہ نہیں رہااورنہ کسی دستاویز میں میرا نام شامل ہے ۔اس موقع پر سابق وزیر اعظم نے واجد ضیاء کے بیان پر بھی اعتراض کیااورکہاکہ حسین نوازکی طرف سے دی گئی دستاویزات پرجواب دینے کا مجازنہیں حسین نوازمقدمے میں الگ ملزم ہیں قطری کا دفاع بھی حسین نوازنے پیش کیا قطری شہزادے کے ساتھ کسی بھی قسم کی ٹرانزیکشن کاتعلق نہیں ہے ۔

عدالت نے نوازشریف کے بیان کو ریکارڈکا حصہ بناتے ہوئے العزیزیہ اسٹیل ملز کی سماعت (آج) جعمہ تک جبکہ فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی ۔