طاہر داوڑ کے قتل پر افغان رویے سے لگتا ہے ،ْمعاملہ دہشت گرد تنظیم کا نہیں ،ْپاک فوج

ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے، ہم نے ایک بہادر پولیس افسر کو کھو دیا ،ْ ترجمان میجر جنرل آصف غفور افغان سیکیورٹی حکام اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے آہنی باڑلگانے میں تعاون کریں ،ْ بیان

جمعرات نومبر 20:14

طاہر داوڑ کے قتل پر افغان رویے سے لگتا ہے ،ْمعاملہ دہشت گرد تنظیم کا ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ پاکستانی پولیس افسر طاہر داوڑ کا اسلام آباد سے اغوا، افغانستان منتقلی ،ْوہاں قتل اور پھر افغان حکام کا رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے جو کہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاملہ افغانستان میں ایک دہشت گرد تنظیم تک نہیں ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے، ہم نے ایک بہادر پولیس افسر کو کھو دیا۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں لیکن ہم اعادہ کرتے ہیں کہ افغان سیکیورٹی حکام اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے آہنی باڑلگانے میں تعاون کریں۔یاد رہے کہ ایس پی طاہر داوڑ اسلام آباد کے علاقے جی ٹین سے 27 اکتوبر کو لاپتہ ہوئے جن کی لاش دو روز قبل افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ملی تھی۔افغان حکام نے طاہر داوڑ کی میت پاکستان کے حوالے کرنے میں بھی تاخیر برتی جس پر دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو دو بار دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج بھی کیا۔