مسلم لیگ ن کا انکار ، پیپلز پارٹی کا انکار

مسلم لیگ ن کے انکار کے باوجود پیپلز پارٹی نے قائمہ کیمٹیوں کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات نومبر 19:01

مسلم لیگ ن کا انکار ، پیپلز پارٹی کا انکار
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-15 نومبر 2018ء) :پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے قائمہ کمیٹیوں کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف کا نام بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مسترد کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے دونام پارلیمانی کمیٹی کو دیے تھے۔ تاہم جب وزیراعظم عمران خان کو پی اے سی کی سربراہی کیلئے بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اور مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف کا نام آیا ہے۔

ان ناموں سمیت دیگر ناموں پر مشاورت کی جارہی ہے۔ عمران خان نے خواجہ آصف کا نام سامنے آتے ہی مسترد کردیا۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف منی لانڈنگ میں ملوث ہیں ان کو کیسے پی اے سی کمیٹی کا چیئرمین بنایا جاسکتا ہے؟ ان کے نام پر مشاورت ہی کیوں کی گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے نام پر مشاورت بھی نہ کی جائے۔

(جاری ہے)

لیکن حکومت نے چیئرمین پی اے سی کیلئے بلاول بھٹو کو آفر کی تھی جس پر بلاول بھٹو نے معذرت کرلی۔

پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ اگر شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چئیرمین نہیں بنایا جاتا تو وہ بھی مسلم لیگ ن کا ساتھ دیتے ہوئے قائمہ کمیٹیوں کا حصہ نہیں بنیں گے،تاہم تازہ ترین خبر کے مطابق پیپلزپارٹی نے اس حوالے سے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب قائمہ کمیٹیوں کا حصہ بنے گی۔دوسری جانب مسلم لیگ ن نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے ایک بار پھر قائمہ کمیٹیوں کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔