آئی جی پنجاب کی سربراہی میں سنٹرل پولیس آفس میں آر پی او کانفرنس کا انعقاد

جمعرات نومبر 23:53

آئی جی پنجاب کی سربراہی میں سنٹرل پولیس آفس میں آر پی او کانفرنس ..
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) تمام فیلڈ افسران جرائم کے خاتمے کے لیے کمر کس لیں کیونکہ آئندہ فیلڈ افسران کی کارکردگی اس کے ضلع میں جرائم کی صورت حال سے مشروط کی جارہی ہے اور ہر ڈی پی او اگر اپنے ضلع میں اشتہاریوں اور عدالتی مفروروں کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ غیر قانونی کلاشنکوف کی ریکوری اور بغیر نمبر پلیٹ اور غیر مجاز موٹر سائیکلوں کے خلاف کارروائی کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ضلع میں جرم پنب سکے۔

تمام فیلڈ افسران جرائم پیشہ افراد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تا کہ پولیس اپنی اصل ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہو سکے اور عوام کو پر امن ماحول اور بر وقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انسپکٹر جنرل پولیس اپنجاب، امجد جاوید سلیمی نے سنٹرل پولیس آفس لاہور میں ویڈیو لنک آر پی او کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب، اعجاز حسین شاہ، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، اظہر حمید کھوکھر، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس، رائو سردار،ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ، طارق مسعود یسین، ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن، ابوبکر خدا بخش، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن، سید خرم علی شاہ ،ڈی آئی جی آر اینڈ ڈی، فیصل علی رانا، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، وقاص نذیر، اے آئی جی ڈویلپمنٹ، احسن یونس، اے آئی جی لاجسٹکس ، رائے بابر سعید ، اے آئی جی فنانس، غازی صلاح الدین، اے آئی جی آپریشنز، اویس ملک اور اے آئی جی ایڈمن، اسد سرفراز سمیت دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

کانفرنس میں آئندہ امن و امان کی صورت حال کے دوران اینٹی رائٹ فورس کو مکمل اختیارات اور متعلقہ آلات کے استعمال کے طریقہ کار کی حکمت عملی طے کی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی امن و امان کی صورت حال میں اینٹی رائٹ فورس امن و امان کو ہر صورت یقینی بنائے گی اور اسے ضلعی پولیس کی معاونت بھی حاصل ہو گی۔ کانفرنس میں پنجاب پولیس میں موجود 4واٹر کینن میں سے 2لاہور 1گوجرانوالہ اور 1راولپنڈی کو دینے کے علاوہ 2نئی واٹر کینن خریدنے کے لیے معاملہ حکومتی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اس کے علاوہ صوبے بھر میں موجودتمام پولیس لائنز میں واٹر فلٹر پلانٹ لگانے اور ڈسپنسریاں بنانے کافیصلہ کیا گیا اور اس سلسلے میں آر پی اوز کو بتایا گیا کہ اس پراجیکٹ کی تمام معاونت گورنر پنجاب، چوہدری محمد سرور کریں گے۔ یہ واٹر فلٹر پلانٹ اور ڈسپنسریاں ایک مہینے میں 6لائنز میں مکمل کی جائیں گی اس طرح آئندہ 6ماہ میں صوبے بھر کے 36اضلاع میں یہ پراجیکٹ مکمل کر لیا جائے گا۔

کانفرنس میں تمام اضلاع میں ریسورس مینجمنٹ اور ڈسپلے سنٹرز کے قیام اور ا س میں تمام آلات کی تقسیم کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ معمولی تنازعات کے باہمی رضامندی سے حل کرنے اور تھانوں اور عدالتوں کا وقت بچانے کے لیے مجوزہ (DDRCs)کے بارے میں اہم فیصلے کیے گئے جس میں ان کمیٹیوں کے 21ممبران کی اہلیت کے معیاراور سلیکشن کے طریقہ کار کے علاوہ ان کی ذمہ داریوں اور کردار کے تعین ، ورکنگ لائحہ عمل، ضابطہ اخلاق، ممبران کے اختیارات کے تعین اور لیگل فریم ورک کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے یہ طے کیا گیا کہ کمیٹی کا ممبر اسی ضلع کا رہائشی، غیر سیاسی، غیر جانبداراور بہترین شہرت کا حامل ہو گا۔

ریٹائرڈ ججز، پروفیسرز، علماء کرام، وکلاء، سابق سرکاری افسران اور سینئر صحافی کمیٹی کے ممبران ہو سکیں گے۔کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کمیٹیوں کے تمام مراحل اگلے 2ہفتے میں مکمل کر لیے جائیں گے اور کمیٹیاں بغیر کسی سیاسی دبائو میں آئے ہوئے اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کریں گی اور ان فیصلوں پر عملدررآمد کے لیے انہیں لیگل کور دیا جائے گا۔