میں نے کبھی غیر پارلیمانی الفاظ استعمال نہیں کیے،گذ شتہ حکمرانوں کے ادوار میں لیے گئے قرضوں کے بارے میں جب ہم پوچھتے ہیں تو ماحول خراب ہو جاتا ہے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

جمعہ نومبر 00:40

میں نے کبھی غیر پارلیمانی الفاظ استعمال نہیں کیے،گذ شتہ حکمرانوں کے ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ میں نے کبھی غیر پارلیمانی الفاظ استعمال نہیں کیے، مشاہداللہ خان کو غیر پارلیمانی گفتگو پر معافی کا نہیں کہا جاتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’دنیا کامران خان کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس کے اختتام پر اس حوالے سے بات وزیراعظم عمران خان کے علم میں لائی گئی جس پر وزیراعظم عمران خان نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کس طرح ایک وفاقی وزیر کو ایوان میں آنے سے روکا جا سکتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزراء کی تضحیک کرنی ہے تو معاملہ نہیں چلے گا، اس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو بلا کر ان کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اس حوالے سے چیرمین سینیٹ سے بات کریں لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی وزیر کی تضحیک کو پسند نہیں کریں گے۔

(جاری ہے)

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معافی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، گزشتہ حکمرانوں کے ادوار میں لیے گئے قرضوں کے بارے میں جب ہم پوچھتے ہیں تو ماحول خراب ہو جاتا ہے اور اگر حساب کے بارے میں سوالات پارلیمنٹ میں نہیں ہوں گے تو کہاں ہوں گے، کیا پارلیمنٹ میں قبرستان جیسا سکوت چاہتے ہیں، اپوزیشن صرف یہی چاہتی ہے کہ خرچ کیے جانے والے پیسوں کا ذکر نہ کریں اور ان کے اوپر دائر مقدمات بھی ختم کر دیں تو پارلیمنٹ بہت اچھی ہے لیکن اگر کرپشن کے معاملات پر بات کریں گے اور لوٹٰ ہوئی دولت کو واپس لانے کی بات کریں گے تو ہم ایوان کو نہیں چلنے دیں گے لیکن موجودہ حکومت کسی قسم کا کوئی مک مکا نہیں کرے گی اور کرپٹ عناصر کے احتساب کو بلاتفریق یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ووٹر نے ہمیں ’’سٹیٹس کو‘‘ کے خلاف ووٹ دیا ہے، ہم نے اپنے منشور پر عمل کرنا ہے، اور ہمارا ووٹر یہ سمجھتا ہے کہ جن وعدوں کے اوپر ہم نے ووٹ لیے ہیں انہیں پورا کریں اور اگر ہم یہ وعدے پورے نہ کر سکے تو ہم اپنے ووٹرز کے ساتھ غداری کر رہے ہوں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پالیسی بنانا حکومت کا اور اس پر عملدرآمد کرنا بیوروکریسی کا کام ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہولڈنگ کمپنی کا بورڈ ایک ماہ کے اندر اندر بن جائے گا۔