پاکستان میں میڈیا آزاد ہے ،میڈیا پر مستند خبریں دینے پر کوئی پابندی نہں ہے، میڈیا مکمل آزادی کے ساتھ اپنا کام کر رہا ہے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا’’وائس آف امریکہ‘‘ کو انٹرویو

جمعہ نومبر 01:30

اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے جبکہ میڈیا پر مستند خبریں دینے پر کوئی پابندی نہں ہے اور میڈیا مکمل آزادی کے ساتھ اپنا کام کر رہا ہے۔ جمعرات کو ’’وائس آف امریکہ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ صحافی برادری اور میڈیا ہائوسز پاکستان میں بہت مضبوط ہیں۔

انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ اپنی مالیاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے بزنس ماڈل کو تبدیل کریں، انہوں نے تجویز کیا کہ میڈیا حکومت پر انحصار کم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے معاملات چلانے کے لیے حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے علاوہ دوست ممالک کے پاس بھی قرض کے لیے جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو اشتہارات کی مد میں 40 سی50 بلین روپے جاری کرنا عجیب ہوگا، اس لیے انہوں نے میڈیا کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں بنائیں جو انہیں ان کے مالی معاملات منظم کرنے میں مدد دیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا ہائوسز کے ریلیف کے لیے حکومت اشتہارات کی مد میں میڈیا ہائوسز کے قابل ادائیگی بقایاجات ادا کر رہی ہے۔ میڈیا اہلکاروں کی جانچ پڑتال پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت جعلی پریس کارڈ رکھنے والے عناصر کی شناخت کے لیے ایک میکانزم شروع کر رہی ہے، جعلی پریس کارڈ رکھنے والوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر اپنے مفاد کے لیے پریس کلبوں کا استعمال کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت جعلی اکائونٹس ہولڈر اور گمراہ کن خبروں کی اشاعت کو روکنے کے لیے فیس بک سمیت ٹویٹر اور یوٹیوب کے ساتھ رابطے قائم کر رہی ہے تاکہ گمراہ کن خبروں کی اشاعت کرنے والے لوگوں پر چیک لگایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ مسیح کیس میں بھی حکومت نے دیکھا کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ نے جعلی اکائونٹس کے ذریعے من گھڑت گمراہ کن خبریں پھیلائیں جن کا مقصد ملک میں امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنا تھا۔