طاہر داوڑ کی میت حوالگی کے پیچھے تاخیر کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

افغان حکام کی طرف سے مذاکرات کرنے والے شخص سے متعلق بھی اہم انکشافات سامنے آ گئے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ نومبر 11:28

طاہر داوڑ کی میت حوالگی کے پیچھے تاخیر کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16نومبر 2018ء) طاہرداوڑ کی میت حوالگی کے پیچھے تاخیر کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاک افغان مذاکرات میں امتیاز وزیر نامی شخص افغان حکام کی قیادت کر رہا تھا۔مذاکرات کے دوران امتیاز وزیر نامی شخص کا رویہ بہت جارحانہ تھا۔اس کی مسلسل ضدر ہی کہ طاہر داوڑ کی میت صرف منظور پشتین کو دی جائے گی۔

ا س موقع پر محسن داوڑ اور امتیاز وزیر کے درمیان 10 منٹ تک تنہائی میں بات چیت ہوئی۔اس حوالے سے ذرائع بتاتے ہیں کہ امتیاز وزیر اور محسن داوڑ پہلے سے بھی ایک دوسرے سے واقف لگ رہے تھے۔محسن داوڑ نے ہی امتیاز وزیر کو راضی کیا کہ میںر عمائدین کے حوالے کر دی جائے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ امتیاز وزیر اس وقت افغانستان کے شہر کابل کے فائیو سٹار ہوٹل میں رہائش پذیر ہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے امتیاز وزیر کا تعلق سپین وام ششی خیل کے علاقے سے ہے۔امتیاز وزیر 2013ء میں پاکستان آیا تھا اس نے اے این پی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔جب کہ دوسری جانب وفاقی حکومت نے افغانی حکومت کا رویہ سفارتی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کرلیا، وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہافغانستان کے ساتھ معاملہ سفارتی سطح پر اٹھائیں گے، افغان رویے پر غور کیلئے کل وزیراعظمہاؤس میں اجلاس ہوگا۔

انہوں نے ایس پی طاہر داوڑ کی میت سے انکار پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جلال آباد میں پاکستانی قونصل جنرل کو ایس پی طاہر داوڑ کی میت نہ دینا سوالیہ نشان ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر طورخم سرحد آیا۔ جو رویہ طور خم باڈر پر دیکھا وہ تکلیف دہ تھا۔ اڑھائی گھنٹے ہمیں کھڑا کیا گیا پھر کہا کہ ہم پاکستان کو لاش نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین پاکستان میں ہیں۔

آج ہم پر ففتھ جنریشن وار مسلط کی گئی ہے اس لیے مصدقہ اطلاع کے بغیر بات کرنا ٹھیک نہیں۔ جب مصدقہ اطلاع ملی تو پارلیمنٹ اور میڈیا دونوں پربات بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتشار پھیلانے کی سازش کی جارہی تھی۔ تاہم ہم سب کو ملکر سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ لاش نہ دینا شہید کی لاش پر پاکستان میں انتشار پھیلانا مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ وطن کے سپوت کوافغانستان میں بے دردی سے شہید کیا گیا۔ طاہر داوڑ کے قاتلوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔