وزیراعظم اور چئیرمین سینیٹ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

وزیراعظم عمران خان کی چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ نومبر 11:40

وزیراعظم اور چئیرمین سینیٹ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 نومبر 2018ء) وزیراعظم عمران خان اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کی طرف سے چئیرمین سینیٹ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔گذشتہ روز چئیرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے سینیٹ داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔گذشتہ روز :وزیر دفاع پرویز خٹک ، وزیر اعظم عمران خان کا خصوصی پیغام لے کر چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے پاس پہنچے تھے۔

ملاقات میں ایوان بالا کی کاروائی کو افہام تفہیم سے چلانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمینسینیٹ کو وزیر دفاع نے وزیراعظم کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

(جاری ہے)

چئیر مین سینیٹ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےبروقت کاروائی کرتےہوئےپرویزخٹک کوبھیج کرایوان کاوقاربلندکیا،۔

پارلیمان کی بالادستی اورجمہوری رویوں کا فروغ ہم سب کا بنیادی فرض ہے۔جب کہ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے فواد چودھری کے سینیٹ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے معاملے پر پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزراء کی تضحیک برداشت نہیں کی جائے گی۔خیال رہے اپوزیشن کی جانب سے فواد چوہدری کے معافی مانگنے تک ایوان کا واک آؤٹ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی جس پر چیئر مین سینٹ نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے سینیٹ کے رواں سیشن میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

اس پر وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نےکہا کہ سیاستدان ہی ملک چلاتے ہیں اوربرباد بھی کرتے ہیں۔ ہم نے10سال دیکھا ہے کہ کس طرح ملک چلایا گیا ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ ہمیں غریبوں کے پیسوں کی بات کرنے پر معافی کا کہا جاتا ہے۔ لیکن مشاہداللہ خان نے میرے اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی۔

اس پر بھی تومعافی مانگنی بنتی ہے۔ میرے بارے میں چیئرمین سینیٹ کی رولنگ پر کوئی مطمئن نہیں تھا۔ پوری کابینہ نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مجھے لاکھوں لوگوں نے منتخب کرکے بھیجا ہے جبکہ چیئرمین سینیٹ عوامی نمائندے نہیں ہیں۔ وہ براہ راست منتخب نہیں ہوئے ہیں۔ اگرچیئرمین سینیٹ توازن پیدا نہیں کرسکتے تو پھر حکومت کوبھی سوچنا پڑے گا۔