بھارت کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی بھر پور کوشش کر رہاہے‘قابض انتظامیہ نے میری رہائش گاہ کو جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے‘سید علی گیلانی

کشمیری بھارت سے اسکا کوئی حصہ چھیننا نہیں چاہیے بلکہ وہ متنازعہ جموں وکشمیر کو اسکے تاریخی تناظر میں کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دیکر حل کرنے کی بات کر رہے ہیں بھارت کے متکبرانہ حکمران حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے کشمیریوں کی چوتھی نسل کو انتشار کی آگ میں جھونکتے ہوئے پورے خطے کے امن کو غارت کرنے پر تلے ہوئے ہیں

جمعہ نومبر 12:10

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) مقبوضہ کشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیری اپنے غصب شدہ حق، حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن قوت کے نشے میں چور بھارت انکی آواز کو دبانے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق قابض انتظامیہ نے سید علی گیلانی کو اپنے داماد غلام حسن مخدومی کی رحلت پر اپنی بیٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے 8برس کے طویل عرصے بعدجمعرات کے روز اپنے آبائی گاؤں ڈورو سوپور جانے کی جازت دی۔

غلام حسن مخدومی معدے میں سرطان کے باعث منگل کے روز سرینگر کے صورہ ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے ۔ سید علیؤ گیلانی نے اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ایک طویل عرصے کے بعدخود کواپنے آبائی علاقے کے لوگوں کے درمیان پا کر انہیں بہت ہی خوشی اور مسرت ہورہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ نے انہیں گزشتہ آٹھ برس سے زائد عرصے سے سرینگر میں اپنے گھر میں محصور کر رکھا ہے اورانہیں نہ تو کسی شہید کے جنازے میں اور نا ہی بھارتی ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کے گھر وں میں جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارتی فورسز نے ان کی رہائش گاہ کو عملاً ایک جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیری بھارت سے اسکا کوئی حصہ چھیننا نہیں چاہیے بلکہ وہ متنازعہ جموں وکشمیر کو اسکے تاریخی تناظر میں کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دیکر حل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت کے متکبرانہ حکمران حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے کشمیریوں کی چوتھی نسل کو انتشار کی آگ میں جھونکتے ہوئے پورے خطے کے امن کو غارت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

حریت چیئرمین نے موت وحیات کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہر ذی نفس کو موت کا پیالہ لینا ہے اور اس سے کسی کو بھی فرار حاصل نہیں ۔ سید علی گیلانی کی اپنے آبائی علاقے میں آمد کے موقع پر لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد یہاں امڈ آئی ۔ سید علی گیلانی کو بعد میں آزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کی گونج میں واپس سرینگر رخصت کیا گیا۔