مقبوضہ کشمیر، مشترکہ حریت قیادت کی آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں پر فردجرم عائد کرنے اور مسرت عالم پر پھر سے کالا قانون لاگو کرنے کی مذمت

جمعہ نومبر 12:10

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے بھارتی تحقیقاتی ادارے ’این آئی اے‘ کی طرف سے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کے خلاف دلی کی ایک عدالت میں فرم جرم عائد کرنے جبکہ جموںوکشمیر مسلم لیگ کے چیئرمین مسرت عالم بٹ پر ایک مرتبہ پھر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مشترکہ حریت قیادت نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کے خلاف فرسودہ اور بے بنیاد الزامات پر مبنی چارج شیٹ دراصل انہیں ایک طویل عرصے تک پابندسلاسل رکھنے کی ایک سازش ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی درجنوں کشمیریوں کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کے تحت تہاڑ جیل میں نظر بند رکھا گیا ہے۔

مشترکہ حریت قیادت نے کہا کہ ہر اُس کشمیری کہ جو اپنے حق کی آواز بلند کرتا ہے اور بھارتی مظالم کے خلاف سڑکوں پر نکلتا ہے کو من گھڑت اور بے بنیاد مقدمات میں پھنسا کر جیلوں ،تھانوں اور تفتیشی مراکز میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے جموں کشمیر میں بھارتی جمہوریت کی اصلیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی ہزاروں کشمیری مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں جبکہ نظر بندوں پر بار بار کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیا جاتا ہے۔

مشترکہ قیادت نے مسرت عالم بٹ پر 37ویں بار کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لوگو کرنے کو بدترین لاقانونیت اور سرکاری دہشت گردی کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی رہنما کو محض ایک سیاسی موقف رکھنے کی پاداش میں بدترین تعصب اور ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ مشترکہ حریت قیادت نے کھنموہ سرینگر میں ایک خاتون اور اسکے دو بھائیوں کی گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کو مکمل طور پر ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔