بینکنگ کورٹ نے انور مجید و دیگر سے جیل میں جے آئی ٹی کی تفتیش کے لیئے درخواست پر سپریم کورٹ کو آگاہ کرنے کا فیصلہ سنادیا

جمعہ نومبر 17:46

بینکنگ کورٹ نے انور مجید و دیگر سے جیل میں جے آئی ٹی کی تفتیش کے لیئے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) بینکنگ کورٹ نے اربوں روپے منی لانڈرنگ اسکینڈل کیس میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید و دیگر سے جیل میں جے آئی ٹی کی تفتیش کے لیئے درخواست پر سپریم کورٹ کو آگاہ کرنے کا فیصلہ سنادیا۔ کراچی بینکنگ کورٹ نے اربوں روپے منی لانڈرنگ اسکینڈل کیس میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید و دیگر سے جیل میں جے آئی ٹی کی تفتیش کے لیئے درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔

عدالت نے جے آئی ٹی کی تفتیش کی اجازت سے متعلق درخواست سے سپریم کورٹ کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بینکنگ کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کوئی حکم صادر نہیں کر سکتے۔ درخواست سے سپریم کورٹ کو آگاہ کر رہے ہیں, سپریم کورٹ ہی فیصلہ کرے گی۔

(جاری ہے)

دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ انور مجید، عبدالغنی مجید، حسین لوائی اور طحہ رضا لانڈھی جیل میں تفتیش کرنی ہے۔

جے آئی ٹی کو منی لانڈرنگ کی مزید تحقیقات کے لیے چاروں ملزمان سے الگ الگ تحقیقات مطلوب ہیں۔ ملزمان جے آئی ٹی کی تشکیل سے پہلے ہی جیل کسٹڈی میں ہیں۔ چاروں ملزمان سے تحقیقات, بیانات کے لیے 4 روز دیے جائیں۔ وکلا کے ملزمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملزمان سے تفتیش ہوچکی, جیل کسٹڈی کے بعد مزید تفتیش کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔تفتیش مکمل ہونے کے بعد اب مزید کیا تفتیش مطلوب ہے۔ عبوری چالان میں کہہ چکی کہ ملزمان سے تفتیش ہوچکی۔ ایف آئی اے کو مزید تفتیش کی اجازت نہ دی جائے۔ عدالت جے آئی ٹی کی درخواست کو مسترد کرے۔ جس پر عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا تھا آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ تفتیش مکمل ہو چکی۔ عبوری چالان جمع ہوا ہی, حتمی چالان تو جمع کرانا باقی ہے۔