سپریم کورٹ: 9 افسران کو اضافی تنخواہیں واپس کرنے کا حکم

گریڈ 21 کے افسرہوکرساڑھے6 لاکھ تنخواہ وصول کیوں کی؟ آپ کی تنخواہ ڈیڑھ یا دولاکھ بنتی ہے، اضافی تنخواہ واپس کی جائے، اگرتنخواہیں واپس نہ کی گئیں تو کارروائی ہو گی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے پبلک سیکٹرکمپنیزکے افسران کی تنخواہوں سے متعلق ریمارکس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ نومبر 18:11

سپریم کورٹ: 9 افسران کو اضافی تنخواہیں واپس کرنے کا حکم
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 نومبر 2018ء) سپریم کورٹ نے9 افسران کو اضافی تنخواہیں واپس کرنے کا حکم دے دیا، آپ گریڈ 21 کے افسرہوکرساڑھے6 لاکھ تنخواہ وصول کررہے ہیں، آپ کی تنخواہ ڈیڑھ یا دولاکھ بنتی ہے، اضافی تنخواہ واپس کی جائے، اگرتنخواہیں واپس نہ کی گئیں تو کارروائی ہو گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پبلک سیکٹرکمپنیزکے افسران کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹی اتھارٹی اکبرناصر خان بھی پیش ہوئے۔ اکبرناصر خان نے کہا کہ ہم نے ایک نئے پروجیکٹ پرکام کیا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ افسران 3 ماہ میں اضافی تنخواہیں واپس کردیں۔ اگرتنخواہیں واپس نہ کی گئیں تو کارروائی ہو گی۔

(جاری ہے)

آپ گریڈ 21 کے افسرہوکرساڑھے6 لاکھ تنخواہ وصول کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی تنخواہ ڈیڑھ یا دولاکھ بنتی ہے۔

جبکہ اضافی رقم کس مد میں وصول کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگوں نے ملک کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ایک محکمے میں آپ کوخوش کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا۔ اس موقع پرجسٹس اعجازالاحسن نے اکبر خان سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنی تنخواہ سے 6 گنا زائد تنخواہ کیوں وصول کی؟ آپ لوگوں نے دوسروں کے ساتھ مل کرعوام کا پیسہ لوٹا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے حکم دیا کہ نیب ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد تنخواہ واپس نہ کرنیوالوں کے خلاف کارروائی کرے۔

پبلک سیکٹرکمپنیزکے افسران کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی گئی ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ رجسٹری میں زلفی بخاری کی بطور معاون خصوصی وزیر اعظم تقرری کی نااہلی کے لیے درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے زلفی بخاری کا تمام بائیو ڈیٹا، تقرری کا عمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ملکی اہم عہدوں پر تقرر کرنا اہم قومی فریضہ ہے اور دوستیوں پر یہ معاملات نہیں چلیں گے صرف قومی مفاد پر چلیں گے۔

چیف جسٹس نے عدالت میں زلفی بخاری کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنا غصہ گھر چھوڑ کر آئیں۔ آپ کسی اور کے دوست ہوں گے سپریم کورٹ کے دوست نہیں ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے اٹارنی جنرل پاکستان کو ہدایت کی کہ وہ زلفی بخاری کو رویے سے متعلق آگاہ کریں۔ زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ معاون خصوصی کا تقرر کرنا وزیر اعظم کا اختیار ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم عوام کا ٹرسٹی ہے اس کو بے لگام اختیارات نہیں ہیں۔ وزیر اپنی من اور منشا کے مطابق معاملات نہیں چلائے گا بلکہ ہم طے کریں گے کے معاملات آئین کے تحت چل رہے ہیں کہ نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کو کس اہلیت کی بنیاد اور کس کے کہنے پر تقرر کیا گیا ہے زلفی بخاری کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زلفی بخاری کو آئینی عہدہ نہیں دیا گیا ہے بلکہ ان کا تقرر رولز آف بزنس کے تحت کیا گیا ہے اور وہ کابینہ کے رکن بھی نہیں ہیں جب کہ اوورسیز پاکستان کے لے دہری شہریت کے حامل شخص کو ہی یہ عہدہ ملنا چاہے۔چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت پانچ دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔