20ویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کا 90شاہراہ قائد اعظم کا دورہ

صوبائی وزیرراجہ یاسر ہمایوں ، چیف سیکریٹری یوسف نسیم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے وفد کا استقبال کیا وفاقی سطح پر اردو کو بطور تعلیمی زبان رائج کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، پنجاب میں پاور سینٹر صرف وزیر اعلیٰ ہیں‘ راجہ یاسر ہمایوں

جمعہ نومبر 19:35

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) بیسویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کی85اراکین پر مشتمل وفد نے 90شاہراہ قائد اعظم کا دورہ کیا۔ صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں اور چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے وفد کا استقبال کیا۔ اراکین اسمبلی، سینیٹرز، سینئر سول اور فوجی افسران اور سول سوسائٹی پر مشتمل وفد کی قیادت انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اینڈ ریسرچ انالیسز نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد سمریز سالک نے کی۔

ورکشاپ کے شرکاء کو پنجاب میں تعلیمی اصلاحات، ڈویلپمنٹ کے منصوبوں اور گڈ گورننس میں انفارمیشن ٹیکنا لوجی کے استعمال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ سپیشل سیکریٹری ہائر ایجوکیشن، چیئر مین پی اینڈ ڈی اور چیئر مین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے اپنے محکموں کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ تعلیم موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

معیاری تعلیم کی فراہمی ماضی میں حکومتوں کی ترجیح نہیں رہی۔ وفاقی سطح پر اردو کو بطور تعلیمی زبان رائج کرنے کے حوالے سے اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے۔ تمام پہلوؤں کو جائزہ لینے کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ پنجاب میں پاور سینٹر صرف وزیر اعلیٰ ہیں۔ جبکہ باقی تمام افراد اور محکمے وزیر اعلیٰ کو انکے فرائض کی انجام دہی میں تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

ماضی میں ون مین شو کی وجہ سے موجودہ وزیر اعلیٰ کے اختیارات پر میڈیا میں بات کی جارہی ہے۔ ہر شخص اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کررہا ہے۔ پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سروس سٹرکچر اور ایس ایچ اوز کو با اختیار کرنے اور چیکس اینڈ بیلنسز کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔

طلبا کو بنیادی علوم سے آگاہ رکھنے کے لئے جنرل ایجوکیشن کے مضامین کو چارسالہ ڈگری کا حصہ بھی بنا یا جا ئے گا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے صوبہ کے مختلف علاقوں میں وسائل کی تقسیم کے حوالے سے انصاف نہیں کیا ۔پنجاب کے پسماندہ علاقوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے جامع پروگرام پر عمل کیا جا رہا ہے، دو سے تین سال میں واضح بہتری نظر آئے گی۔

انکا کہنا تھا کہ ہر سسٹم کو کامیابی سے چلانے کے لئے جدت لانا ضروری ہے۔ بہتری لانے کے لئے بیوروکریسی میں بھی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ صوبے میں آئین اور رولز آف بزنس کے مطابق معاملات چلائے جا رہے ہیں۔ ہیومن ڈویلپمنٹ ، صحت ، تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کے لئے کام کیا جا رہا ہے۔ صوبہ کے مختلف علاقوں میں معاشی فرق میں کمی لانے اور وسائل کی جائز تقسیم کے حوالے سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ حکومت پولیس اصلاحات اور گورننس بہتر بنانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف ٹاسک فورسز کام کر رہی ہیں۔ صوبہ میں میگا پروجیکٹس کی تکمیل کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہو ئے چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے جلد بازی میں شروع کئے گئے پراجیکٹس کی لاگت میں بے پنا اضافہ ہو گیا ہے۔

اورنج لائن منصوبے کی لاگت 250ارب تک پہنچ گئی ہے جبکہ منصوبہ 30 جون تک مکمل ہو گا۔ ٹرین کو تین ماہ تجرباتی بنیادوں پر چلایا جائے گا جبکہ کرائے کا فیصلہ اس کے بعد کیا جائے گا۔ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے لئے ضروری ہے اس سے عوام کو مطلوبہ فائدہ بھی حاصل ہو۔ مشاورت اور پلاننگ کے ساتھ فیصلے کرنے سے میگا پراجیکٹس کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔

چیئر مین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ حببیب الرحمان گیلانی نے شرکاء کو بتایا کہ دس ارب روپے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے مستحق طلبا کی تعلیم پر خرچ کئے جائیں گے۔ جبکہ تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لئے ریسرچ سینٹرز قائم کئے جا رہے ہیں۔ کالجز کی سطح پر بہتری کے لئے کمیونٹی کالجز کے منصوبہ پر کام ہو رہا ہے جبکہ چار سالہ گریجوایشن ڈگری پروگرام کی بہتری کے لئے بھی کام کیا جا رہا ہے۔

حکومت ہائر ایجوکیشن سیکٹر میں اصلاحات کے لئے قوانین میں بہتری لانے کے لئے بھی کام کر رہی ہے۔ صوبہ کی سطح پر پہلی تعلیمی پالیسی تشکیل دی جارہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سی پیک ( CPEC)کے تحت پنجاب میں پانچ میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔ پنجاب میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی آسان بنانے کے لئے "ای روزگار" پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ صوبہ میں گورننس کو بہتر بنانے کے لئے اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے ٹاسک فورس اپنی سفارشات پیش کرے گی جبکہ نئے لوکل گونمنٹ سسٹم کے تحت تیس فیصد بجٹ ویلج کونسل کے ذریعے خرچ کیا جائے گا۔

حکومت سیاحت کے فروغ کے لئے بھی جامع پالیسی بنا رہی ہے۔ نجی شعبہ کے تعاون سے ٹورسٹ ریزورٹس بنائے جائیں گے۔ سیاحت کی ترقی سے معیشت میں بھی بہتری آئے گی اور لوگوںکو روزگار ملے گا۔ سپیشل سیکریٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر ڈال نے شرکاء کو پنجاب حکومت کی جانب سے تعلیمی میدان میں کی گئی اصلاحات سے آگاہ کیا ۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔

اس ضمن میں فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ جبکہ نصاب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جائے گا۔ کمیونٹی کالجز کا قیام اور طلبا میں تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لئے تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ حکومت امتحانی نظام کی بہتری کے لئے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اینڈ ریسرچ انالیسز نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد سمریز سالک نے شرکاء کو بتایا کہ ہمارا تعلیمی نظام معیاری تعلیم فراہم نہیں کر رہا ۔

تعلیمی نظام میں Critical Thinking کی ضرورت ہے۔ ہم پر انا اور غصہ کا غلبہ ہے۔ کوئی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سے سوال کرنے کی جسارت نہیں کرتا۔ ریاسست کو مافیا ز کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ وسائل رکھنے والے صوبوں کومعاشی طور پر غیر مستحکم صوبوں کی مد د کرنی چاہئے۔ مالی طور پر مستحکم صوبے پسماندہ علاقوں میں ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کا اعلان کر کے فنڈز کے صحیح جگہ استعمال کو یقینی بنا سکتے ہیں۔