سی ڈی اے کے افسر کے لاپتہ ہو جانے کے معاملے کا ڈراپ سین

سرکاری افسر ایاز خان رشتے داروں کے پاس ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود، موبائل فون گم ہونے کی وجہ سے کسی سے رابطہ نہیں کر سکا

muhammad ali محمد علی جمعہ نومبر 19:20

سی ڈی اے کے افسر کے لاپتہ ہو جانے کے معاملے کا ڈراپ سین
ڈی آئی خان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) سی ڈی اے کے افسر کے لاپتہ ہو جانے کے معاملے کا ڈراپ سین، سرکاری افسر ایاز خان رشتے داروں کے پاس ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود، موبائل فون گم ہونے کی وجہ سے کسی سے رابطہ نہیں کر سکا۔ تفصیلات کے مطابق لاپتہ سی ڈی اے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی گمشدگی کا ڈراپ سین ہوا ہے۔ سی ڈی اے افسر ایاز خان رشتہ داروں کے پاس ڈیرہ اسماعیل خان آیا تھا، تاہم موبائل گم ہونے کی وجہ سے کسی سے رابطہ نہیں کر سکا تھا۔

ایاز خان نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا ہے کہ وہ اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں اور خیریت سے ہیں۔ اپنے ویڈیو پیغام میں ایاز خان نے کہا ہے کہ ان کے حوالے سے کسی کو بھی پریشان ہونے یا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپنے رشتے داروں کے پاس موجود ہیں۔

(جاری ہے)

ایاز خان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر عجیب خبریں چلائی گئی ہیں، میرے موبائل گم ہونے کی وجہ سے کسی سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا، اس معاملے میں حکومت اور اداروں کی بدنامی نہ کی جائے۔

اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان تھانہ آبپارہ سے لا پتہ ہو گئے۔ سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان ایچ آر ڈی میں تعینات تھے۔ ایاز خان کے اہل خانہ نے کہا کہ گزشتہ رات سے ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ، ایاز خان کا موبائل بھی بند جا رہا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سی ڈی اے ایاز خان کے پی اے نے پولیس کو ان کی گمشدگی کی اطلاع دی۔

پی اے کے مطابق ایاز خان کل ڈھائی بجے تھانہ آبپارہ سے نکلے جس کے بعد سے اب تک لا پتہ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایاز خان کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا ہے۔ان کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے سی ڈی آر نکلوا رہے ہیں۔ دوسری جانب ایاز خان کی اہلیہ اور ان کے برادر نسبتی حسن نے ان کی گمشدگی کے حوالے سے تھانہ آبپارہ میں تحریری درخواست بھی جمع کروا دی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایس پی رورل پشاور طاہرخان داوڑ لاپتا ہوگئے تھے۔ طاہرخان ایف 10 مرکز میں ٹریک سوٹ میں واک کررہے تھے کہ لاپتہ ہو گئے۔جس کے بعد پولیس نے ان طاہر داوڑ کی تلاش شروع کر دی۔ پولیس کی جانب سے کوشش کے باوجود بھی طاہر داوڑ کا سُراغ نہیں لگایا جا سکا۔رواں ماہ اطلاع موصول ہوئی کہ ایس ایس پی رورل طاہر خان خٹک کو قتل کر دیا گیا ۔

ذرائع نے بتایا کہ ایس ایس پی طاہر خان درواڑ کو افغانستان میں قتل کیا گیا۔ طاہر داوڑ کو اغوا کر کے افغانستان لے جایا گیا تھا جہاں ان کو صوبے ننگرہار میں قتل کردیا گیا۔گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کا نوٹس لیا اور واقعہ سے متعلق وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی۔ افغان حکام نے پاک افغان بارڈر پر طاہر داوڑ کی میت کو افغان حکام کے حوالے کرنے سے پہلے تو انکار کیا لیکن بعد ازاں حکومتی وفد کی جانب سے افغان حکام سے مذاکرات کے بعد ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا۔

خیبرپختونخوا کے افسر طاہر خان داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے کرنے کے لیے افغانستان کے شہر جلال آباد سے طورخم بارڈر لایا گیا ۔شہید ایس پی طاہرداوڑکی نمازجنازہ پولیس لائن پشاورمیں اداکی گئی۔ اس موقع خیبرپختونخوا پولیس کے خصوصی دستے نے شہید ایس پی طاہر داوڑ کے جسد خاکی کوسلامی پیش کی جس کے بعد نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔