پاکستان میں ہر سال پیدائش سے متعلق پیچیدہ امراض، قبل از وقت پیدائش اور سپسس کے باعث 600 سے زائد نوزائیدہ بچے ہلاک ہو جاتے ہیں، یونیسیف

جمعہ نومبر 19:52

پاکستان میں ہر سال پیدائش سے متعلق پیچیدہ امراض، قبل از وقت پیدائش ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) یونیسیف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال پیدائش سے متعلق پیچیدہ امراض سانس رکنے، قبل از وقت پیدائش اور سپسس کے باعث 600 سے زائد نوزائیدہ بچے ہلاک ہو جاتے ہیں، ہر سال دنیا میں 15 ملین بچے قبل از وقت پیدا اور تقریباً 10 لاکھ بچے متعلقہ پیچیدہ امراض سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ جمعہ کو پری میچیورٹی کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ آئیدہ گرمہ نے ایک پیغام میں کہا کہ دنیا بھر میں قبل از وقت پیدائش نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کا اہم سبب ہے، آئیدہ گرمہ نے متعلقہ پیچیدہ امراض کے باعث قبل از وقت بچوں کی پیدائش اور نوزائیدہ بچوں کی اموات میں کمی کیلئے حکومت پاکستان کے اقدامات کی مکمل حما یت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں یونیسیف اور پاکستان کو مل کر کام کرنیکی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

آیدہ گرمہ نے کہا ہے کہ صحت کیلئے گلوبل مقاصد کے حصول میں کامیابی تب ممکن ہے جب قابل از وقت بچوں کی پیدائش اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں کمی آئے گی۔ تفصیلات کے مطابق یونیسیف نے ملک بھر میں عوامی صحت کے مراکز میں 38 بیمار نوزائیدہ بچوں کے نگہداشت یونٹس قائم کرنے میں حکومت کیساتھ تعاون کیا ہے۔ان مراکز میں کینگرو مدرکیئر (کے ایم سی) انیشی ایٹیو متعارف کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف کے تعاون سے رواں ماہ پمز اسلام آباد میں کے ایم سی قائم کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :