پاکستان اورچین کے درمیان سدابہاردوستی اورتعاون کو اجاگر کرنے اور سی پیک فریم ورک کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کا مقابلہ کرنے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،

سی پیک کے حقیقی تناظر کواجاگر کئے بغیر بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو حقیقت کا روپ نہیں دھار سکیں گا چین اورپاکستان کے ماہرین کا میڈیا فورم میں اظہار خیال

جمعہ نومبر 20:09

بیجنگ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) چین اورپاکستان کے صحافیوں، قانون سازوں،ماہرین تعلیم اوردانشوروں نے پاکستان اورچین کے درمیان سدابہاردوستی اورتعاون کو اجاگر کرنے اورچین پاکستان اقتصادی راہداری فریم ورک کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کا مقابلہ کرنے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پرزوردیاہے۔ان خیالات کااظہار دونوں ممالک کے ماہرین نے چائنا اکنامک نیٹ اورپاکستان چائنہ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام منعقدہ ایک روزہ میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ماہرین نے کہاکہ سی پیک کے حقیقی تناظر کواجاگر کئے بغیر بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو حقیقت کا روپ نہیں دھار سکیں گا۔سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی اورپاک چائنہ انسٹی ٹیوٹ کے چئیرمین سینیٹرمشاہد حسین سید نے اپنے افتتاحی ریمارکس میں کہاکہ سی پیک نے پانچ برسوں میں حقیقت کا روپ دھار لیاہے، تھرکول، گودرپورٹ، معدنیات کے منصوبہ اوربنیادی ڈھانچہ کے منصوبوں پرموثر پیش رفت ہورہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ مذموم مقاصد کیلئے سی پیک کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کے تدارک کیلئے میڈیا کو ترقی کے اس اہم پیش رفت پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اورچین کی دوستی سدا بہاراور وقت کی آزمائش پر پورا اتری ہے، دونوں ممالک دریاوں اورپہاڑوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں، ہمیں یقین ہیں کہ دونوں ممالک افہام وتفہیم سے دونوں ممالک کے عوام کے بہترمستقبل کیلئے تمام مشکلات پرقابوپانے میں کامیاب ہونگے۔

سینیٹر پرویز رشید نے اپنے خطاب میں کہاکہ سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری ایک شانداراوراہم اقدام ہے ، پاکستان میں چین کی اس سرمایہ کاری سے پرانے شاہراہ ریشم کا احیاء نوہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک اب صنعت اورمیڈیا تعاون کے دورمیں داخل ہواہے، اس منصوبہ کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کو زائل کرنا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد نے اپنے خطاب میں فورم کے انعقادکوسراہا اورکہاکہ اس کے ذریعے چین اورپاکستان کے صحافیوں، قانون سازوں،ماہرین تعلیم اوردانشوروں کو ایک دوسرے سے میل ملاپ اورمختلف امورپرتبادلہ خیال کا پلیٹ فارم مل گیاہے۔

پاکستانی سفیر نے کہاکہ سی پیک نے دونوں ممالک کے درمیان سدابہارتزویراتی تعاون وشراکت داری کو مزیدبلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ تبدیل ہوتے ہوئے میڈیا کے تناظر میں دونوں ممالک کی میڈیا کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے،دونوں ممالک کی میڈیا کو اس اہم منصوبہ کی مثبت پروجیکشن اورانسانی دلچسپی کے حامل سٹوریز پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین کو دونوں ممالک کے درمیان دوستی اورتعاون کے نئے دورکا آغاز قراردیا۔آل چاینہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی انتظامی سیکرٹری وانگ ڈانگ می نے سی پیک کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کے سدباب کیلئے دونوں ممالک کی میڈیا کے درمیان تعاون کی ضرورت پرزوردیا۔ فورم سے پاکستان اورچین کی میڈیا سے وابستہ صحافیوں، ماہرین تعلیم اوردانشوروں نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں سی پیک کمیونیکیشن ایوارڈ کی تقریب میں سی پیک کے حوالے سے اہم تحقیقاتی سٹوریز دینے والے پاکستان اورچین کے صحافیوں کو ایوارڈ سے نوازاگیا۔