احتساب کے لئے فیڈرل اکائونٹیبلٹی کمیشن بنایا جائے جو سب کا بلا تفریق احتساب کرے،

صرف سیاستدانوں کی بات کیوں کی جاتی ہے، کابینہ سینیٹ کا بائیکاٹ کرے گی تو یہ آئین خلاف ورزی ہو گی پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی کا ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال

جمعہ نومبر 22:59

احتساب کے لئے فیڈرل اکائونٹیبلٹی کمیشن بنایا جائے جو سب کا بلا تفریق ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ احتساب کے لئے فیڈرل اکائونٹیبلٹی کمیشن (وفاقی احتساب کمیشن) کا ادارہ بنایا جائے جو سب کا بلا تفریق احتساب کرے، صرف سیاستدانوں کی بات کیوں کی جاتی ہے، کابینہ سینیٹ کا بائیکاٹ کرے گی تو یہ آئین خلاف ورزی ہو گی۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں عوامی اہمیت کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کمزور ہو رہی ہے، یہ عمارت گری تو اس کے ملبے سے کوئی بھی نہیں نکل سکے گا، پچھلے چار یا پانچ دنوں سے اس ایوان میں کیا صورتحال رہی، چیئرمین کی رولنگ کا جو ردعمل آیا، چیئر کی رولنگ پر آمرانہ ادوار میں بھی اس طرح کا ردعمل نہیں دیا گیا، اگر کابینہ سینیٹ کا بائیکاٹ کرے گی تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی، یہ کہا گیا چیئرمین سینیٹ منتخب کردہ نہیں ہے، ہمارے انتخاب کا اپنا طریقہ کار ہے، یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ہم منتخب کردہ نہیں ہیں، اگر ہم منتخب کردہ نہیں ہیں تو صدر پاکستان کیسے منتخب کردہ ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعظم بھی ارکان اسمابلی کے ان ڈائریکٹ ووٹ لے کر منتخب ہوتے ہیں، کیا ہم جمہوریت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کرپشن کی بات کرنے پر سینیٹ میں ہنگامہ ہو جاتا ہے، میں مانتا ہوں کہ آپ کرپشن کی بات کر کے حکومت میں آئے لیکن جن کرپشن کیسوں کی بات کر کے آپ حکومت میں آئے وہ کیس تو عدالتوں میں ہیں اور جن لوگوں پر کیس ہیں وہ بھگت رہے ہیں اور یہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے، مان لیتا ہوں کہ یہ کرپشن کا ناسور ختم کرنے آئے ہیں، میں اس ایجنڈے پر آپ کے ساتھ ہوں لیکن سوال کرتا ہوں کہ کیا معاشرے میں صرف سیاستدان ہی ہیں، جو لوگ حکومت میں ہیں اور نیب کیسوں میں ہیں، ان کی بھی میں بات نہیں کرتا، کیا سیاستدانوں کے علاوہ معاشرے میں اور کوئی رہ نہیں رہا۔

میں نے چیئرمین سینیٹ کے طور پر کہا تھا کہ سب کا احتساب کریں، یکطرفہ احتساب نہیں چلے گا، صرف سیاستدان کرپٹ نہیں ہے، بدقسمتی سے معاشرے کا ہر فرد کرپٹ ہے، سب کا احتساب ہونا چاہیے لیکن اس کے لئے کوئی تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تجویز دیتا ہوں کہ فیڈرل اکائونٹیبلٹی کمیشن بنایا جائے جو سول ملٹری بیورو کریسی، عدلیہ، سیاستدانوں سمیت سب کا بلامتیاز احتساب کرے۔

ایک قانون ہونا چاہیے، کمیشن ہونا چاہیے جو احتساب کا فیصلہ کرے، نیب اس کے ماتحت ہو، ریفرنس دائر ہونے اور اس کے فیصلے کے لئے مدت کا تعین وہ کمیشن کرے، اگر احتساب کرنا ہے تو سب کا کریں، صرف سیاستدانوں کی بات کیوں کرتے ہیں۔ اگر واقعی حکومت کرپشن کی لعنت کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اس کی جڑ کو کاٹے۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ کسی کے ذاتی خیالات کو کابینہ کی رائے نہیں کہنا چاہیے، متعلقہ وزیر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ رضا ربانی کی سو فیصد تائید کرتا ہوں۔