سپریم کورٹ نے سابق صوبائی وزیر عبدالمجید اچکزئی کیخلاف دہشت گردی کے دفعات ختم کرانے کے لئے دائر درخواست مسترد کردی

جمعہ نومبر 23:35

سپریم کورٹ نے سابق صوبائی وزیر عبدالمجید اچکزئی کیخلاف دہشت گردی کے ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں ٹریفک پولیس اہلکار کو کچلنے والے سابق صوبائی وزیر عبدالمجید اچکزئی کے خلاف دہشت گردی کے دفعات ختم کرانے کے لئے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت کوہدایت کی ہے کہ وہ حتمی حکم میںدائرہ اختیار کے نکتے پر بھی احکامات جاری کرے ، جمعہ کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عبد المجید اچکزئی کیخلاف زیرسماعت مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت سے منتقل اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کیلئے دائر درخواست کی سماعت کی ، اس موقع پرملزم کے وکیل کامران مرتضی نے پیش ہوکراپنے دلائل میں موقف اپنایا کہ گاڑی کی تیز رفتاری کے باعث کسی بندے کی ہلاکت کا معاملہ ٹریفک قوانین میں آتا ہے جبکہ ٹریفک قوانین کامقدمہ انسداد ہشت گردی کی عدالت میں چلانا قرین انصاف نہیں۔

(جاری ہے)

جس پرجسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ساری دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ یہ واقعہ کس طرح رونما ہوا ہے ،ملزم نے گاڑی روکنے کی بجائے پولیس اہلکار پر چڑھا دی تھی ۔ فاضل وکیل نے کہا کہ اگرمیرے موکل کیخلاف دہشت گردی کی عدالت میں ٹرائل کیا جاتاہے توایسی صورت میں ملزم اور مقتول کے قانونی ورثاء کے درمیاں راضی نامہ بھی نہیں ہوسکے گا۔ ا س لئے استدعا ہے کہ میرے موکل کیخلاف زیرسماعت مقدمہ سے دہشت گردی کے دفعات ختم کرکے کیس عام عدالت میں ٹرائل کے لئے منتقل کیا جائے کیونکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ٹرائل کی وجہ سے فریقین میں صلح نہیں ہو سکے گی۔

جس پرجسٹس سجاد علی شاہ نے ان سے کہا کہ صلح تو اس کیس میں ہونی ہی نہیں چاہیے جبکہ جسٹس گلزار نے ان سے کہا کہ دائرہ اختیار کا معاملہ ٹرائل کورٹ میں اٹھاکر اسے اس نکتہ پر فیصلہ کرنے دیا جائے بعدازاںعدالت نے مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت سے منتقل کرنے کی استدعامسترد کردی اور ہدایت کی کہ دہشتگردی کی دفعات کامعاملہ ٹرائل کورٹ کے سامنے اٹھایا جائے جبکہ ٹرائل کورٹ حتمی فیصلے میں دائرہ اختیار کے حوالے سے بھی حکم جاری کرے ۔