گھوٹکی میں گزشتہ چار ماہ کے دوران چار سے زائد ملزمان کوگرفتارکرکے اسلحہ برآمدکیا گیا،

اب گھوٹکی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران توجہ دلائو نوٹس پر جواب

جمعہ نومبر 23:52

گھوٹکی میں گزشتہ چار ماہ کے دوران چار سے زائد ملزمان کوگرفتارکرکے اسلحہ ..
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گھوٹکی میں گزشتہ چار ماہ کے دوران چارسے زائد ملزمان کوگرفتارکرکے اسلحہ برآمدکیا گیا ہے، ماضی میں وہاں چھوٹوگینگ کارروائیاں کرتا تھا لیکن اب صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں کہی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن شہریار شر نے اپنے ایک توجہ دلائو نوٹس کے ذریعے ضلع گھوٹکی میں بدامنی کے واقعات پر ایوان کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ گھوٹکی اوباڑو سے ہمارے لوگوں کو اغوا کیاگیا ہے اور ووٹرزکو ہراساں کیا جا رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ عادل پور میں ہمارے لوگوں کو قتل کیا گیا ہے، ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے اور پولیس زیادتی کو روکا جائے۔

(جاری ہے)

رکن سندھ اسمبلی ملک شہزاد نے اپنے توجہ دلائو نوٹس کے ذریعے بلدیہ ٹائون میں قلت آب کا معاملہ اٹھایا۔ ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ کراچی کے ضلع غربی کو ضرورت سے کم پانی فراہم کیا جا رہاہے۔ وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ دھابیجی پرسوملین گیلن پانی کی فراہمی کا منصوبہ مارچ تک مکمل ہوگا، اس وقت تک ضلع غربی کو ٹینکرکے ذریعے پانی فراہم کیاجا رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پانی کی چوری اور رسائو روکنے کے لئے بھی کام کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی وسیم قریشی نے نارتھ کراچی میں پانی کے بحران پر توجہ دلائو نوٹس پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ اجمیرنگری پمپنگ اسٹیشن پر پانی کی تقسیم پر ہنگامے ہوتے ہیں، نارتھ کراچی کا پانی روک کر دیگرعلاقوں کو دیاجا رہا ہے۔ وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں پانی کی تقسیم بہتربنانے کے لئے اپوزیشن کی تجاویز پر عمل کیا جائے گا۔

اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں حکومت کی مدد کرے۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کے وسیم الدین قریشی نے سندھ میں ایمبولینس سروس نہ ہونے سے متعلق اپنی ایک تحریک التوا پیش کی جس میں محرک کی جانب سے کہا گیا کہ تعلیم، صحت اور دوسری بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کراچی میں ایمبولینس اور ابتدائی طبی امداد نہ ہونے سے لوگ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی راستے میں چل بستے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جزائراور ہائی ویز پر بھی فوری طبی امدادکے لئے ایمبولینس فراہم کی جائیں۔