پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بیورو کریسی میں اصلاحات لا رہی ہے، ہم بیورو کریسی کو روایتی راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں،اب ایوانوں میں غریب عوام کے مسائل کے حل کے لیے بات بھی ہو گی،حکومت وزیراعظم عمران خان کی متحرک اور ولولہ انگیز قیادت کے تحت عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور غربت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے،ہم عوامی فلاح و بہبود کا سفر جاری رکھیں گے،میں نے کبھی کوئی غلط زبان استعمال نہیں کی

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’ میں گفتگو

ہفتہ نومبر 00:00

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بیورو کریسی ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بیورو کریسی میں اصلاحات لا رہی ہے، ہم بیورو کریسی کو روایتی راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں،اب ایوانوں میں غریب عوام کے مسائل کے حل کے لیے بات بھی ہو گی،حکومت وزیراعظم عمران خان کی متحرک اور ولولہ انگیز قیادت کے تحت عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور غربت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے،ہم عوامی فلاح و بہبود کا سفر جاری رکھیں گے،میں نے کبھی کوئی غلط زبان استعمال نہیں کی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کی استعداد کار کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے اور یہی سچ میں ایوان میں بھی بولتا ہوں ، اپوزیشن کو سچ سننے اور بولنے کی عادت ہی نہیں کیونکہ ماضی میں غریب عوام کی تو کوئی بات تک نہیں کرتا تھا اور نہ ہی حقیقی مسائل پر کوئی بات ہوتی تھی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت میں ایسا نہیں چلے گا اور اب ایوانوں میں غریب عوام کے مسائل کے حل کے لیے بات بھی ہو گی اور کرپٹ عناصر کا بلاتفریق احتساب بھی ہو گا۔

۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈز کے تحت سندھ کو بھی کھربوں روپے ملے لیکن آج سندھ کی جو حالت ہے سب جانتے ہیں، ، سندھ کی حکومتوں نے گزشتہ 20 سالوں میں سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ بھی نہیں کیا اور یہی حالت بلوچستان کی بھی ہے جہاں ایڈیشنل فنانس سیکرٹری کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے لیکن اس کے باوجود اس معاملے کا کچھ بھی نہیں بنا۔

انہوں نے کہا کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے جو وزیراعظم کے اختیار میں نہیں اور آزادانہ طور پر اپنا کام کر رہا ہے، نیب کے پاس وسائل کی کمی ہے، نیب کو وسائل کی فراہمی میں وقت درکار ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی متحرک اور ولولہ انگیز قیادت کے تحت عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور غربت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے جبکہ دوسری جانب بڑے لوگوں کی کوشش ہے کہ سہولیات عام آدمی تک نہ پہنچیں لیکن ہم عوامی فلاح و بہبود کا سفر جاری رکھیں گے اور عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنائیں گے اور غربت کا خاتمہ کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی غلط زبان استعمال نہیں کی اور میری کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ غلط زبان استعمال نہ کی جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ایک مخلص اور ایماندار شخص ہیں جن کے دل اور زبان میں کوئی فرق نہیں، وہ جو کہتے ہیں وہی کرنا بھی چاہتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بیورو کریسی میں اصلاحات لا رہی ہے، بیورو کریسی کو روایتی راہ سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے جب اقتدار سنبھالا ملکی معاشی حالات بہت خراب تھے جو اب بہتری کی جانب جا رہے ہیں جو خوش آئند ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حماد اظہر اور خسرو بختیار سمیت دیگر نوجوان وزراء نظام کو بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔