وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی عمران خان کی عبادات میں کمی نہ آئی

وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ یا کسی بھی اہم حکومتی امور سے متعلق اجلاس کے دوران اذان کی آواز سنتے ہی اجلاس چھوڑ کر نماز کی ادائیگی کے لیے چلے جاتے ہیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ نومبر 11:22

وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی عمران خان کی عبادات میں کمی نہ ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17نومبر 2018ء) تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی جانب سے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی عبادت اور میں کمی نہ آئی وہ ابھی بھی "عبادات کی ادائیگی اور وظائف" کے معمولات میں کوئی غفلت نہیں برتتے۔اس کے ساتھ ساتھ ان کی مکمل توجہ حکومتی امور پر ہوتی ہے۔اہم ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان وفاق کابینہ یا کسی بھی اہم حکومتی امور سے متعلق اجلاس کی صدارات کر رہے ہوتے ہیں تو وہ اذان کی آواز سنتے ہی اجلاس چھوڑ کر نماز کی ادائیگی کے لیے چلے جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ عمران خان وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد بھی نمازوں کی ادائیگی اور وظائف کا ورد کرنے کا سلسلہ ماضی کی طرح اب بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ ہم پاکستان کو مدینہ طرز کی ریاست بنائیں گے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار دارنی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا مذہب سے لگاؤ اب نہیں بلکہ بہت پرانا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے متعلق دینی معاملات کو اجاگر نہ کریں۔خیال رہے اس سے قبل عمران خان کو کئی بار ایوان میں بھی تسبیح پڑھتے دیکھا گیا ہے۔ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے پولنگ ہونا تھی تو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت کئی اراکین ایوان میں تسبیح پڑھتے رہے۔،ْاس دوران پی ٹی آئی کے اہم رہنما شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، ریاضفتیانہ، ڈاکٹر شیریں مزاری، ڈاکٹر عارف علوی سمیت دیگر ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتوں اور بات چیت کے علاوہ وہ ہاتھ میں تسبیح لئے رہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جب سے بشری بی بی سے شادی ہوئی ہے تو ان کی زندگی میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں۔