یوٹرن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے بیانیہ نے وزرا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

یوٹرن کو ایک بڑے لیڈر کی شاندار خوبی قرار دینے پر کپتان کو ناقدین نے آڑے ہاتھوں بھی لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ نومبر 11:25

یوٹرن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے بیانیہ نے وزرا کے لیے خطرے کی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 نومبر 2018ء) : یوٹرن سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے بیان نے وفاقی وزرا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یوٹرن کو ایک لیڈر کی سب سے بڑی خوبی قرار دینے پر بھی وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تبدیلی کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم عمران خان نے ''یوٹرن'' کے فضائل بیان کیے اور ملکی سیاست میں ''یو ٹرن'' کا ایک نیا بیانیہ بھی متعارف کروادیا۔

وزیراعظم عمران خان کے اس بیان نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اراکین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی وزیراعلیٰ یا وزیر کو تبدیل نہ کرنے کے متعلق کپتان کے بیان پر کئی اراکین نے سُکھ کا سانس لیا تھا لیکن کپتان کے حالیہ بیان پر کئی حکومتی اراکین میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

اگر اب وزیر اعظم عمران خان نے کسی وزیراعلیٰ یا وزیر کو تبدیل کر بھی دیا تو وہ اپنے اس فیصلے کو وقت اور حالات کا تقاضا قرار دے کر بآسانی اس تبدیلی کو جائز قرار دے سکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے نپولین اور ہٹلر کی مثال تو دے دی لیکن انہوں نے کسی ایک بھی ایسے لیڈر کا تذکرہ نہیں کیا جنہوں نے اپنی زندگی میں یوٹرن لیے ہوں۔ عمران خان نے گذشتہ روز دئے جانے والے اپنے بیان میں یوٹرن نہ لینے والے عالمی لیڈرز کو لیڈرز ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ عمران خان کے بیان پر ان کی اپنی ہی کابینہ، حکومت اور پارٹی کے اراکین بھی ایک گھمبیر سوچ میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ انہوں نے تو اتنے سال ایک ایسے کپتان کا ساتھ دیا جو کبھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے ، اور ہمیشہ وہی کیا جو کہا ۔

لیکن اب ان کو بھی سوچنا پڑے گا کہ وزیراعظم عمران خان کی کون سے بات ٹھیک ہے اور کون سی نہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ گذشتہ روز یوٹرن سے متعلق عمران خان کا بیان مستقبل میں ان کے فیصلوں کے حوالے سے ایک وارننگ ہو ، اب وزیراعظم کی کس بات پر یقین کرنا ہے اور کس بات پر نہیں ، یہ تو حکومتی اکابرین ہی فیصلہ کریں گے یا پھر ان کے لیے بھی اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا کہ عمران خان کے کون سے فیصلے کا ساتھ دیا جائے اور کون سے فیصلے کا نہیں ۔

کیونکہ کپتان اب کس بات پر یوٹرن لے لیں کسی کو کیا معلوم۔ ناقدین نے اس معاملے پر عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنے بیان کے حق میں کرکٹ کی دنیا کی دلیل دی لیکن انہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئیے کہ اب وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ انہیں ایک کرکٹ ٹیم کے کپتان کے طور پر نہیں بلکہ ایک سیاسی لیڈر اور ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے سوچنا ہو گا اور اپنے ٹیم اور ملک کو آگے لے کر بڑھنا ہو گا۔