پولیس نے مولانا سمیع الحق کی قبر کُشائی کرنے کا فیصلہ کر لیا

مولانا سمیع الحق کی قبر کُشائی اور پوسٹمارٹم کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ پولیس حکام

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ نومبر 13:58

پولیس نے مولانا سمیع الحق کی قبر کُشائی کرنے کا فیصلہ کر لیا
پشاور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 نومبر 2018ء) : جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی قبر کُشائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے قانونی تقاضے پورے کرنے اور مولانا سمیع الحق کا پوسٹ مارٹم کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے سیشن جج راولپنڈی کو قبر کُشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے کی درخواست دائر کی جب کہ عدالت نے درخواست سیشن جج نوشہرہ کو ارسال کردی ہے۔

سیشن جج نوشہرہ کی جانب سے احکامات موصول ہونے پر متعلقہ مجسٹریٹ نے مولانا سمیع الحق کے لواحقین، مقامی پولیس اور حکام کو نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔ تفتیشی ٹیم کے سب انسپکٹر جمیل کی قیادت میں پولیس ٹیم اکوڑہ خٹک میں موجود ہے اور اسے قبر کُشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک وہیں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ راولپنڈی پولیس کے ایس ایچ او ائیرپورٹ انسپکٹر عامر مولانا سمیع الحق کے سیکرٹری احمد شاہ کو ڈھونڈ کر راولپنڈی لانے کے لیے بھی اکوڑہ خٹک میں موجود ہیں جب کہ مولانا کے دو موبائل فونز اور سیکرٹری سید احمد شاہ کے موبائل نمبرز کی فرانزک رپورٹ پولیس کو موصول ہو گئی ہے۔

پولیس کے مطابق مولانا سمیع الحق عام فون اور سیکرٹری احمد شاہ اسمارٹ فون استعمال کرتے تھے۔ احمد شاہ نے زیادہ تر فون کالز اسمارٹ فون اپلیکیشنز واٹس ایپ، وائبر اور ایمو وغیرہ پر کیں اور اس وجہ سےبھی پولیس کو مشکلات کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جائے وقوعہ سے 5 افراد کے ڈی این اے کے نمونے ملے ہیں اور باتھ روم سے برآمد ہونے والا خون آلود کُرتا بھی مولانا سمیع الحق کا نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے اب تک ساتھ سے آٹھ مشکوک افراد کو تحویل میں لے لیا ہے تاہم مولانا کا سیکرٹری احمد شاہ اکوڑہ خٹک سے کئی روز سے لاپتہ ہے جبکہ مقامی پولیس مقامی پولیس بھی گرفتاری سے انکاری ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے مولانا سمیع الحق کی قبرکُشائی اور ان کا پوسٹمارٹم کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔